.

ترکی سابق آرمی چیف اربکان حکومت کو چلتا کرنے کے الزام میں گرفتار

سول حکومت کو فوجی طاقت سے ہٹانے کی سازش کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ترکی میں حکام نے فوج کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل اسماعیل حقی کرادئیے کو 1997ء میں اس وقت کی اسلامی رجحانات کی حامل حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں کردار پر گرفتار کر لیا ہے۔

ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے اناطولیہ نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ ریٹائرڈ جنرل اسماعیل حقی کرادئیے کو انقرہ کی ایک عدالت کے روبرو پیش کیا جائے گا جہاں وہ اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔ تاہم کرادئیے کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ ان کی گرفتاری یا ان کے انقرہ کی عدالت میں پیشی کے لیے سمن سے آگاہ نہیں ہیں۔

جنرل اسماعیل حقی 1997ء میں چیفس آف اسٹاف کے عہدے پر فائز تھے اور ان کی قیادت میں فوج نے سابق وزیر اعظم نجم الدین اربکان کو حکومت چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ البتہ اس وقت ترک فوج نے وزیر اعظم نجم الدین اربکان کی حکومت کو بزور طاقت چلتا کرنے کے بعد اقتدار پر قبضہ تو نہیں کیا تھا لیکن اس نے اس تمام عمل میں عسکری قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا تھا۔ فوج نے فروری 1997ء میں دارالحکومت انقرہ پر ٹینکوں کے ساتھ چڑھائی کر دی تھی اور اربکان حکومت پر اتنا دباؤ ڈالا تھا کہ اس کے لیے اقتدار چھوڑنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہ گیا تھا۔

ترکی میں گذشتہ نصف صدی کے دوران سول حکومتوں کو بہ زور چلتا کرنے یا فوجی بغاوتوں کے ذریعے اقتدار پر قبضے کی سازشوں میں ملوث بیسیوں سابق فوجی عہدےداروں کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہے اور ان میں سے متعدد اعلیٰ فوجی عہدے دار اس وقت پابند سلاسل ہیں۔

گذشتہ سال اپریل میں حکام نے 1997ء میں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے ماسٹر مائینڈ اور وائس چیف آف آرمی اسٹاف جنرل چیوک بیر سمیت متعدد سابق جرنیلوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ انھوں نے اپنی گرفتاری کے بعد حکام سے کہا تھا کہ جنرل اسماعیل حقی کو بھی تحقیقات میں شامل کیا جائے کیونکہ وہ اس وقت سب سے سنئیر عہدے پر فائز تھے اور فوج کی کمان کر رہے تھے۔

ستمبر میں ترکی کی ایک عدالت نے تین سو سے زیادہ ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی افسروں کو 2003ء میں وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے جرم میں بیس سال تک قید کی سزائیں سنائی تھیں۔

ترکی کے سابق آرمی چیف جنرل ایلکر باسبگ سمیت متعدد سابق فوجی افسروں کے خلاف بھی وزیر اعظم رجب طیب ایردوان کی قیادت میں انصاف اور ترقی پارٹی (اے کے) کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ایک اور سازش کے الزام میں الگ سے مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ جنرل باسبگ 2010ء میں ریٹائر ہوئے تھے۔ ان سے قبل 2007ء کے بعد ارجنکن سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں بیسیوں فوجی افسروں اور ان کے معاون اعلیٰ عہدے داروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

جنرل باسبگ پر حکومت کا بزور تختہ الٹنے اور ایک گینگ کی قیادت کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا اور انھیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ انھیں حراست میں لینے کا فیصلہ قوم پرست ارجنکن نیٹ ورک سے تعلق کے الزام میں گرفتار معروف صحافیوں کے بیان کی روشنی میں کیا گیا تھا۔ تاہم انھوں نے اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کو انصاف کا قتل قرار دیا تھا۔

گذشتہ سال جولائی میں جنرل ایلکر کے جانشین جنرل اسیک کوسنر اور ترکی کی تینوں مسلح افواج کے سربراہان حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں جیلوں میں بند فوجی افسروں کے معاملے پر حکومت سے اختلافات کے بعد احتجاجاً مستعفی ہو گئے تھے۔ اس کے بعد پیرا ملٹری دستوں کے سربراہ جنرل نجدت اوزیل کوترکی کا نیا چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ 2002ء میں انصاف اور ترقی پارٹی ''اے کے'' کے بر سر اقتدار آنے کے بعد سے اس کی ملک کی طاقتور فوج اور عدلیہ کی قیادت میں سیکولرسٹ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک جنگ چلی آ رہی ہے۔ فوج اور عدلیہ اپنے اس مزعومہ خدشے کا اظہار کرتی رہی ہیں کہ اے کے پارٹی خفیہ اسلامی ایجنڈا رکھتی ہے اور وہ ملک کے سیکولر تشخص کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔