.

امریکا این پی ٹی کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے ایران

عالمی طاقت پر افغانستان میں دہشت گردی کے خاتمہ میں ناکامی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران نے امریکا پر جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے میں ناکام رہا ہے۔

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سعید جلیلی

نے یہ بات بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے امریکا کی جانب سے بے گناہ شہریوں پر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''پوری دنیا میں صرف امریکا ہی جوہری مجرم ملک ہے جس نے بے گناہ لوگوں کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کیے ہیں اور یہی واحد ملک ہے جس کے پاس بڑی مقدار میں جوہری ہتھیار موجود ہیں''۔

سعید جلیلی نے بتایا کہ ایران اور جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے درمیان مستحکم تعلقات استوار ہیں اور وہ جوہری عدم پھیلاؤ اور امن میں یقین رکھتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ''ایجنسی کے ساتھ ہمارا مستحکم بنیاد پر تعاون جاری ہے۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ ادارے کے ساتھ ہمارے تعاون سے ہتھیاروں کے خاتمے اور عدم پھیلاؤ میں مدد مل سکتی ہے''۔



ایران کے اعلیٰ عہدے دار نے پڑوسی ملک افغانستان میں امریکا کی ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے موجودگی کے بارے میں بھی سوال اٹھائے ہیں اور کہا کہ وہ جنگ زدہ ملک میں دہشت گردی اور منشیات کے خاتمے میں ناکام رہا ہے۔

سعید جلیلی کے بہ قول سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکا خود کو تو ایک سپر پاور سمجھتا ہے لیکن وہ افغانستان میں دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کو کنٹرول نہیں کرنا چاہتا ہے یا وہ اب تک ایسا نہیں کرسکا ہے۔

تاہم انھوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے خوش امیدی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ مذاکرات بہت جلد بحال ہو جائیں گے۔ انھوں نے اس ضمن میں بتایا کہ اس سے پہلے ہم نے جنوری میں جوہری مذاکرات کی بحالی سے اتفاق کیا تھا لیکن ابھی اس حوالے سے تفصیل کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔روس نے اسی ہفتے یہ اطلاع دی تھی کہ چھے بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری تنازعے پر بات چیت کے لیے روابط کیے جا رہے ہیں۔