.

لمبے کوٹ، جنیز اور سرپوش کے ساتھ افغانستان کی پہلی ریپ سنگر

قدامت پسند انہیں قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سوسن فیروز لمبا کوٹ اور جینز کی شلوار زیب تن کرتی ہیں۔ وہ کابل میں اپنی ہم عصر خواتین کی طرح بڑے سرپوش سے اپنے آپ کو مکمل طور پر ڈھانپ کر رکھتی ہیں تاہم افغانستان کے روایتی معاشرے میں اس 23 سالہ دوشیزہ کو ملک کی پہلی ریپ سنگر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

فیزوز کے گانوں کے بول افغان خواتین کے لیے اجنبی نہیں کیوں کہ وہ اپنے گانوں کے ذریعے جنگ سے متاثرہ غریب ملک میں کئی دہائیوں سے خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کی عکاسی کرتے ہیں۔

کابل میں رہنے والی تئیس سالہ سوسن کا کہنا ہے کہ دوسرے افغانوں کی طرح ان کی زندگی بھی جنگ کی یادداشتوں اور پناہ گزیں کی حیثیت سے پڑوسی ملکوں میں گزرے سالوں کی تلخیوں سے بھری ہوئی ہے۔

موسیقی کی وجہ سے قدامت پسند معاشرے میں سوسن کے کئی دشمن بن چکے ہیں جبکہ خاندان میں بھی ان کی مخالفت پائی جاتی ہے۔