.

ملالہ کو ڈھائی ماہ بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا

کھوپڑی کی سرجری ہونا باقی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی پندرہ سالہ طالبہ ملالہ یوسفزئی کو تقریباً ڈھائی ماہ کے علاج کے بعد برمنگھم میں ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

برمنگھم کے ملکہ الزبتھ کی ایک ترجمان نے جمعہ کو صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کی صحتیابی کا عمل ان کی قیام گاہ پر جاری رہے گا تاہم انہیں چند ہفتوں میں ایک آپریشن کے لیے دوبارہ ہسپتال لایا جائے گا۔

ہسپتال میں ملالہ کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے مطابق وہ رواں ماہ کے آخر یا فروری کے شروع میں ان کی کھوپڑی کا ایک اور آپریشن کریں گے۔

ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈیو روسر نے کہا ہے کہ’علاج کے دوران ملالہ کی صحت بہتر ہو رہی ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’ملکہ الزبتھ ہسپتال کے ماہر ڈاکٹر برمنگھم چلڈرنز ہسپتال کے ساتھی ڈاکٹرز کی مدد سے ملالہ کا علاج کر رہے ہیں۔‘

گزشتہ سال اکتوبر میں جب ملالہ پر حملہ ہوا تو گولی ان کی بائیں آنکھ کے اوپر لگی اور دماغ کو چھو کر گزر گئی تھی۔ اس گولی کو ملالہ کو پندرہ اکتوبر کو برطانیہ لے جائے جانے سے پہلے پاکستان میں ہی نکال دیا گیا تھا۔

طالبان شدت پسندوں کے مطابق انہوں نے ملالہ کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ وہ ’سیکولرازم‘ کو فروغ دے رہی تھیں۔ شدت پسندوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ ملالہ کو پھر سے نشانہ بنائیں گے۔

ملالہ یوسفزئی پرحملے کے بعد طالبان کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس حملے کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ادھر حکومت پاکستان نے ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی کو برمنگھم میں پاکستانی قونصلیٹ میں تعلیم کا اتاشی مقرر کیا ہے۔ ملالہ یوسفزئی کے والد کا مینگورہ میں اپنا سکول ہے جہاں ان کی اپنی بیٹی بھی زیر تعلیم تھی۔