.

یمن اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں کمپیوٹر انجنئیر زیر حراست

ملزم سے اسرائیلی اور یمنی شناختی کارڈ برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
یمن میں ایک زیر حراست نوجوان کمپیوٹر انجنیئیر پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کا الزام عاید کیا گیا ہے اور اس پر بہت جلد جنوبی شہر عدن کی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

یمن کی وزارت دفاع کے سرکاری اخبار ''26 ستمبر'' نے جمعہ کو عدالتی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اس چوبیس سالہ نوجوان کو تین ہفتے قبل کئی روز کی نگرانی کے بعد تعز شہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کا نام ابراہیم الضراح بتایا گیا ہے اور وہ کمپیوٹر انجینئیر ہے۔

ملزم کو تعز سے گرفتاری کے بعد جنوبی شہر عدن منتقل کر دیا گیا تھا جہاں فوجداری پراسیکیوٹر نے تفتیش کے بعد اس کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

عدالتی ذریعے کے مطابق ملزم کا کیس عدن کی ایک فوجداری عدالت میں آیندہ چند روز میں پیش کر دیا جائے گا۔ اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم متعدد عرب ممالک کے دورے کرچکا ہے اور وہ اسرائیل بھی آتا جاتا رہا تھا۔ ایک سکیورٹی عہدے دار نے بتایا ہے کہ اس نوجوان ملزم سے دو شناختی کارڈ برآمد ہوئے ہیں۔ان میں ایک یمنی ہے اور ایک اسرائیلی ہے۔