.

پیٹریاٹ میزائل نصب کرنے امریکی فوجی ترکی پہنچ گئے

انقرہ نے نیٹو سے میزائل ڈیفنس سسٹم لگانے کی درخواست کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
۔ترکی کی حفاظت کے لیے شامی سرحد پر پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی تنصیب کے سلسلے میں امریکی فوجی ترکی پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ یہ فوجی ان میزائلوں کی باقاعدہ تنصیب کے عمل کو مکمل کریں گے۔ تنصیب کے عمل کے لیے مزید فوجی اگلے دنوں میں ترکی پہنچ رہے ہیں۔ ان فوجیوں کا تعلق امریکی فوج کے سیکنڈ ایئر ڈیفنس آرٹلری کی تھرڈ بٹالین سے ہے۔ یہ فوجی امریکی ریاست اوکلوہاما میں واقع فوجی اڈے فورٹ ہِل سے پہنچیں گے۔

ترکی نے گزشتہ ماہ شامی سرزمین سے ترکی میں گولے داغنے کے واقعات کے بعد معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم 'نیٹو' سے پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی تنصیب کی درخواست کی تھی۔ ترکی نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بشار الاسد حکومت باغیوں کے خلاف امکاناً کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر سکتی ہے۔ ترکی اور شام کی سرحد نو سو کلومیٹر طویل ہے اور اس میزائل شکن نظام کی تنصیب مختلف مقامات پر کی جائے گی۔ اس خطرے کے بعد نیٹو نے پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی منظوری دی تھی۔ نیٹو نے ترکی میں میزائل بیٹریوں کو نصب کرنے کے حوالے سے پہنچنے والے فوجیوں کی تصدیق کر دی ہے۔

ترکی میں میزائل نظام پیٹریاٹ کی تنصیب میں جرمنی اور ہالینڈ بھی شامل ہیں۔ امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل کئی ملکوں کے پاس ہیں اور ان میں کئی ایشیائی اور یورپی ممالک شامل ہیں۔ جرمنی اور ہالینڈ بھی پیٹریاٹ میزائل نظام ترکی روانہ کرنے والے ہیں۔ ہالینڈ اور جرمنی سے بھی چار چار سو فوجی روانہ کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق اگلے ہفتوں کے دوران پیٹریاٹ میزائل نظام کی چار بیٹریوں کو بحری جہازوں پر لاد کر ترکی روانہ کر دیا جائے گا۔ اس عمل میں بھی مزید چند ہفتے ابھی درکار ہیں۔ اگلے دنوں میں جرمنی اور ہالینڈ کی ایک ٹیم ترکی پہنچ رہی ہے اور یہی ٹیم ابتدائی انتظامی امور کو حتمی شکل دے گی۔


امریکی فوجی جمعہ کے روز ترکی کے فوجی اڈے انجیرلِک ایئر بیس پہنچے۔ شامی سرحد پر کل چھ بیٹریاں نصب کی جائیں گی۔ امریکا، جرمنی اور ہالینڈ کی جانب سے دو دو بیٹریاں فراہم کی جائیں گی۔ پیٹریاٹ میزائل نظام کی تنصیب کا پہلا مرحلہ فوجیوں کی آمد ہے۔ ابھی میزائل بیٹریوں کو ترکی پہنچایا جانا ہے اور اس میں مزید چند ہفتے درکار ہیں۔ ایسا امکان ہے امریکی میزائل بیٹریوں کی تنصیب کا عمل وسط جنوری میں شروع ہو جائے گا۔