.

90 سالہ سعودی دولہا بابا 15 سالہ دلہن بیاہ لائے

خوفزدہ دلہن والدین کے گھر فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب میں ایک نوے سالہ بوڑھے کی 15 سالہ کم سن لڑکی سے شادی کے خبر نے سعودی رائے عامہ میں ہیجان پیدا کر رکھا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر انسانی اور خواتین حقوق کے پرچارک اس بے جوڑ ازدواجی تعلق پر سراپا احتجاج ہیں۔

سماجی اور نفسیاتی ماہرین ٹیوٹر پیغامات کے ذریعے جازان ریجن کی الحرث گورنری میں ہونے والی اس محیر العقول شادی کے بارے میں ٹیوٹر پیغامات کے ذریعے شدید مذمت کا اظہار کر رہے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر لڑکی کے اہل خانہ کے بیانات کی بھی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

نولے سالہ دولہا نے پندرہ سالہ دلہن بیاہنے کر لانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنی نواسی کی ہم عمر دلہن کے کو 65 ہزار ریال حق مہر دیا ہے۔ بابا جی کی دلہن کے والد یمنی اور والدہ سعودی شہری ہیں۔

دولہا بابا کے اپنی قریب المرگ شادی کے سلسلے میں خواب اس وقت ادھورے رہ گئے جب ان کی کم سن دلہن نے انہیں عجلہ عروسی میں داخل ہونے سے روکنے کی خاطر کمرے کی کنڈی لگا لی۔ اس پر نوسے سالہ سعودی شہر کا ماتھا ٹھنکا کہ دلہن کے والدین نے ان سے ہاتھ کر گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دولہا بابا الحرث کی عدالت میں اپنی دلہن یا حق مہر کی واپسی کا مقدمہ دائر کریں گے۔ ادھر انسانی حقوق کی انجمن کی رکن سھیلہ زین العابدین نے متعلقہ اداروں سے کم سن لڑکی کو بحرانی کیفیت سے نکالنے کے لئے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔