.

بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ،گرفتار تیونسی رہا

تیونس کی ماتحت عدالت سے عدم ثبوت کی بناء پر بریت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس میں ایک ماتحت عدالت نے لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں گذشتہ سال ستمبر میں امریکی قونصل خانے پر حملے کے الزام میں گرفتارایک شہری کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

علی حرزی نامی اس تیونسی کو بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کے الزام میں اکتوبر میں ترکی میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس کے ساتھ ایک اور تیونسی شہری کو بھی اسی الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ان کے وکیل انور ولد علی نے منگل کو بتایا ہے کہ جج نے علی حرزی کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اب آزاد ہیں۔

وکیل کے بہ قول انھوں نے عدالت سے علی حرزی کی رہائی کی اپیل تھی کیونکہ اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا تھا حالانکہ اس کے خلاف امریکی تفتیش کار بھی گواہ کے طور پر عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

تیونس کی وزارت انصاف کے ترجمان نے بھی علی حرزی کی رہائی کی تصدیق کی ہے لیکن اس کیس سے متعلق کچھ اور تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔

گذشتہ ماہ مشتبہ تیونسی نے امریکی ایف بی آئی کے تفتیش کاروں کے ساتھ اپنی کسی انٹرویو سے انکار کیا تھا۔علی حرزی نے مبینہ طور پر گیارہ ستمبر کو بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر مسلح افراد کے حملے سے متعلق سوشل میڈیا کی ایک ویب سائٹ پر مواد پوسٹ کیا تھا۔

ایک انگریزی اخبار ڈیلی بیسٹ نے اکتوبر میں یہ اطلاع فراہم کی تھی کہ اس مشتبہ تیونسی کو شام جاتے ہوئے امریکی حکام کے ایماء پر ترکی میں گرفتار کیا گیا تھا اور پھر ترکی نے اسے اس کے ملک کے حوالے کردیا تھا۔اس کا شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایک جنگجو گروپ سے بھی تعلق بتایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ لیبیا میں حکام نے مشرقی شہر بن غازی میں امریکی سفیر کے قتل کے الزام میں کم سے کم پچاس افراد کو گرفتار کیا تھا۔تاہم بعد میں ان میں سے بعض کو رہا کردیا گیا تھا۔لیبیا کی منتخب قومی اسمبلی نیشنل کانگریس کے صدر محمد المقریف تب ایک بیان میں کہا تھا کہ:''بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے میں بعض غیر ملکی بھی ملوث تھے اور وہ مختلف اطراف سے لیبیا میں داخل ہوئے تھے۔ان میں سے بعض مالی اور الجزائر سے آئے تھے۔ دوسرے حملہ آور انھی سے وابستہ تھے یا ممکنہ طور پر ان کے حامی تھے''۔

یادرہے کہ 11 ستمبر2012ء کو امریکا میں بنی اسلام مخالف شرانگیز فلم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران بن غازی میں مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصل خانے پر تباہ کن حملہ کیا تھا۔اس میں لیبیا میں متعین امریکی سفیر جان کرسٹوفر اسٹیونز اور سفارتی عملے کے تین اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔