.

چار عرب سفارتکاروں پر بھارتی دوشیزہ کو ہراساں کرنے کا الزام

مشتبہ افراد سفارتکار نہیں، طلبہ تھے: سفارتی ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
بھارت میں لڑکیوں کو چھیڑنے کے شبے میں چار عرب سفارتکاروں میں ایک کو گزشتہ روز گرفتار کر لیا گیا مگر پولیس کے سامنے سفارتی استثنی کے ثبوت پیش کرنے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ان سفارتکاروں میں سے دو کا تعلق لبنان، الجزائر اور یمن سے ہے۔ پولیس نے ایک مشتبہ شخص کا پتا چلا لیا ہے۔ اس کی شناخت کا تعین اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ طلبی کی ضمانت فراہم کرنے پر انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی ہے۔ ان کے باقی تین ساتھیوں کی تلاش جاری ہے اور اس بات کے تعین کی کوشش کی جا رہی ہے کہا انہیں سفارتی استثنی حاصل ہے یا نہیں۔

تفصیلات کے مطابق سفارتکاروں کے خلاف کارروائی نیو دلہی میں ایک درجہ اول ہوٹل کی اسسٹنٹ مینجر کی شکایت پر عمل میں لائی گئی۔ بھارتی دوشیزہ کی پولیس کو کی جانے والی شکایت میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ شہر کے مصروف جان پاتھ بازار سے گزر رہی تھی کہ وہاں موجود مبینہ سفارتکاروں نے اسے فحش اشارے کئے اور دست درازی کی کوشش کی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے واقعے کے بارے میں تفصیلات جاننے کے لئے بھارت میں لبنانی سفارتخانے سے رابطہ کیا لیکن سفارتخانے کی حال ہی میں کسی دوسری جگہ منتقلی کی وجہ سے رابطہ ممکن نہ ہو سکا کیونکہ پرانی عمارت میں موجود ٹیلیفون نمبر سے جواب موصول نہیں ہو رہا تھا۔ یمنی سفارتخانے سے رابطے پر معلوم ہوا کہ سفیرہ خدیجہ محمد غانم ان دنوں رخصت پر صنعاء میں ہیں اور عملے کا کوئی دوسرا رکن اس معاملے پر تبصرے سے گریزاں تھا۔

بھارت میں الجزائر کے سفیر محمد حسین الشریف میٹنگ میں شرکت کی وجہ سے اس معاملے پر خود رائے نہ دے سکے تاہم ایک سفارتی ذریعے نے کئی بار نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اخبارات میں منگل کے روز شائع ہونے والا سفارتی جنسی سکینڈل غلط فہمی کا تنیجہ ہے۔

ذرائع کے بہ قول بھارتی اخبارات نے سکینڈل سے متعلق خبر تحقیق کے بغیر شائع کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی پولیس جانتی ہے کہ مشتبہ افراد سفارتکار نہیں بلکہ غیر ملکی طلبہ ہیں۔ یہ امر باعث دلچسپی ہے کہ اس خبر کو خود بھارتی پولیس نے میڈیا میں بریک کیا۔