.

ابو غریب جیل کے سابق قیدیوں پر بہیمانہ تشدد کا عوضانہ ادا

پانچ ملین ڈالرز مالیت کا زر تلافی ادا کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا کی ایک دفاعی ٹھیکدار کمپنی نے قانونی تصفیہ کرتے ہوئے ابو غریب سمیت عراق کے دیگر امریکی قید خانوں میں قید 71 افراد کو زر تلافی کے طور پر 5.28 ملین ڈالر ادا کیے ہیں۔

ان قیدیوں نے امریکا کے نجی دفاعی کنٹریکٹر کی ایک ذیلی کمپنی پر الزام عائد کیا تھا کہ 2003ء اور 2007ء کے درمیانی عرصے میں یہ کمپنی ان پر تشدد کرنے میں ملوث رہی تھی۔ ایل تھری کمپنی نے عراق جنگ کے بعد تفتیشی عمل کے لیے امریکی فوجیوں کو مترجم مہیا کیے تھے۔

عراق جنگ کے دوران قیدیوں پر ہوئے مبینہ مظالم کے سلسلے میں پہلی مرتبہ کسی امریکی کمپنی نے ہرجانہ ادا کرنے کے لیے قانونی تصفیہ کیا ہے۔ اس کمپنی نے اس ڈیل کی تفصیلات عام نہیں کی ہیں۔

ذرائع کے مطابق یہ ڈیل اکتوبر میں ہوئی تھی اور اسی ماہ رقوم بھی ادا کر دی گئی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق ہرجانہ تمام قیدیوں میں تقسیم کیا جائے گا تاہم اس بارے میں تفصیلات عام نہیں کی جائیں گی۔

کہا جاتا ہے کہ 2003ء اور 2004ء کے دوران ابو غریب کی بدنام زمانہ جیل خانے میں قیدیوں کو مبینہ طور پر ایک منصوبہ بندی کے تحت جسمانی اور نفسیاتی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

2004ء میں انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی تصاویر میں امریکی فوجیوں کو قیدیوں کی تضحیک اور ان پر تشدد کرتے دیکھایا گیا تھا۔ ان تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد امریکی فوجیوں کی قیدیوں کے ساتھ زیادتی کے ان مبینہ واقعات پر عالمی سطح پر تنقید کی گئی تھی۔

یہ امر اہم ہے کہ ان کیسیز میں کسی بھی کنٹریکٹر کے خلاف قیدیوں پر مبینہ مظالم ڈھانے پر فوجداری الزامات عائد نہیں کیے گئے تھے۔ تاہم اس حوالے سے کچھ امریکی فوجیوں کا کورٹ مارشل ہوا تھا اور انہیں سزائیں بھی سنائی گئی تھیں۔