.

العربیہ نیوز چینل پر بے نظیر بھٹو کی زندگی کے بارے میں خصوصی دستاویزی فلم

'بھٹو' کے عنوان سے تیارکردہ فلم کی پہلی قسط آن ائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
العربیہ نیوز چینل پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے حالات زندگی پر مبنی خصوصی دستاویزی فلم کا پہلا حصہ جمعرات کی شب نشر کیا گیا۔ دو اقساط پر مشتمل دستاویزی فلم میں دختر مشرق کے حالات زندگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

بے نظیر بھٹو کا تعلق پاکستان کے اہم سیاسی خانوادے سے تھا۔ وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عملی سیاست میں آئیں۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے پاکستان کو جدید جمہوری ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن بھارت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مسٹر بھٹو کا پاکستان کو ایٹمی ریاست بنانے کا عزم اسلام آباد کے اتحادی امریکا کو ایک آنکھ نہ بھایا۔

ذوالفقار کی بھٹو کا سیاسی تجربہ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے فوجی انقلاب سے اپنے انجام کو پہنچا۔ ملک آمریت کے جال میں پھنس گیا۔ فوجی مارشل لاء سے ذوالفقار علی بھٹو کا اقدار ان کی گرفتاری پر ختم اور بالآخر پھانسی پر منتج ہوا۔ مرحوم کی اہلیہ اور بیٹی بے نظیر بھٹو بھی نظر بندی اور جلاوطنی پر مجبور کر دی گئیں۔

دستاویزی فلم میں بتایا گیا ہے کہ بے نظیر بھٹو نے انتہائی مشکل حالات میں اپنے باپ کی سیاسی وراثت سنبھالی۔ وہ کیسے دو مرتبہ ملک کے اعلی ترین سیاسی عہدے تک پہنچیں۔ تاہم پرویز مشرف کی فوجی آمریت کے دور میں اپنے شوہر پر کرپشن کے الزامات کے باعث انہیں ملک سے باہر جلاوطنی کی زندگی بھی گزارنا پڑی۔ تاہم فوجی آمریت کے خلاف اپنی سیاسی جدوجہد کی کامیابی پر وہ دوبارہ ملک واپس لوٹیں تو انہیں انتہائی منظم قاتلانہ حملے ابدی نیند سلا دیا گیا۔

بے نظیر بھٹو قیام پاکستان [1947ء] سے اکسیویں صدی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ تک تاریخ کا عنوان ہیں۔ ان کی شخصیت پر العربیہ کی دستاویزی فلم ایک ایسی عورت کی جدوجہد سے عبارت ہے جس کے سیاسی کردار کو ان کے معاشرے نے بھی انتہائی مشکل سے تسلیم کیا۔ العربیہ کی دستاویزی فلم بے نظیر بھٹو کی آمرانہ نظام سے جنگ کا پردہ چاک کرنے کے ساتھ حقیقی بھائی سے چشمک کا بیان بھی ہو گی کہ جس نے اپنے والد کی سیاسی میراث کو بہن تک منتقلی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کی۔

دستاویزی فلم کا پہلا حصہ العربیہ نیوز چینل جمعرات کو گرینچ کے معیاری وقت آٹھ بجے شب نشر کیا گیا جبکہ دوسری قسط جمعہ [گیارہ جنوری] کو اسی وقت پیش کی جائے گی۔