.

سوڈانسرکاری فوج کے ساتھ جھڑپ میں 30 باغی ہلاک

دارفور میں وقفے کے بعد دوبارہ لڑائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سوڈان کے شورش زدہ علاقے شمالی دارفور میں سرکاری فوج نے جھڑپوں میں کم سے کم تیس باغیوں کو ہلاک کردیا ہے۔

سوڈانی فوج کے ترجمان کرنل سوارمی خالد نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ باغی جنگجوؤں نے شمالی دارفور کے علاقے جبل مرا میں فوجیوں پر حملہ کیا تھا لیکن فوج نے ان کے حملہ کو پسپا کردیا۔انھوں نے مزید بتایا کہ مرنے والے باغیوں کا تعلق انصاف اور مساوات تحریک سے تھا۔

واضح رہے کہ دارفور میں 2003ء سے سرکاری فوج اور نسل پرست افریقیوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔افریقی جنگجو تب سے سوڈان کی سرکاری سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار ہیں اور انھوں نے صدر عمر حسن البشیر کی قیادت میں عربوں کی بالادستی والی حکومت کی امتیازی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر ہتھیار اٹھا لیے تھے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں سوڈانی حکومت پرباغیوں کو کچلنے کے لیے طاقت کے بے مہابا استعمال کا الزام کرچکی ہیں جبکہ سوڈانی حکومت اس دعوے کو مسترد کرتی چلی آرہی ہے۔



اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ ایک عشرے کے دوران دارفور میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں تین لاکھ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ستائیس لاکھ اندرون یا بیرون ملک دربدر ہیں لیکن سوڈانی حکوت اقوام متحدہ کے ان اعدادوشمار کو تسلیم نہیں کرتی اور اس کا یہ موقف ہے کہ لڑائی میں صرف دس ہزار افراد مارے گئے تھے۔