.

یو اے ای اسلامی گروپ سے تعلق کے الزام میں زیر حراست خواتین سے تفتیش

اخوان اور ایران دونوں سے خطرہ لاحق ہے: دبئی پولیس سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے پراسیکیوٹرز نے ایک اسلامی گروپ سے تعلق کے الزام میں گرفتار خواتین سے تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ خواتین مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات میں اقتدار پر قبضے کے لیے سازش تیار کر رہی تھیں۔

یو اے ای کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'وام' نے بدھ کو اٹارنی جنرل سالم قبیش کے بیان کے حوالے سے ان خواتین سے تفتیش کی اطلاع دی ہے۔ انھوں نے ان خواتین پر ملک کے اقتدار پر قبضے کے لیے نیٹ ورک تشکیل دینے کا الزام عاید کیا ہے۔ تاہم انھوں نے زیر تفتیش خواتین کی حقیقی تعداد نہیں بتائی۔

درایں اثناء دبئی کے پولیس سربراہ ضاحی خلفان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ یو اے ای میں 26 دسمبر کو گرفتار کیے گئے افراد کا القاعدہ سے تعلق تھا۔ اس گروپ نے یو اے ای، سعودی عرب اورخطے کی دوسری ریاستوں میں بم حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی اور وہ لوگوں کو قتل بھی کرنا چاہتے تھے۔

انھوں نے آج شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں یمن سے تعلق رکھنے والی جنگجو تنظیم ''جزیرہ نما عرب میں القاعدہ'' کی خلیجی ریاستوں میں دراندازی پر تشویش کا اظہار کیا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی انسداد دہشت گردی کی فورسز کی کوششوں کے نتیجے میں خطے میں القاعدہ کا خطرہ کم ہو گیا ہے۔

ضاحی خلفان کا کہنا تھا کہ صرف القاعدہ ہی یو اے ای کے لیے سکیورٹی خطرہ نہیں ہے بلکہ اسے ایران اور اخوان المسلمون سے بھی خطرات لاحق ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایران اور اخوان المسلمون نظریاتی طور پر دو مختلف نقطہ نظر کے حامل ہیں لیکن ان دونوں سے ایک جیسے خطرات لاحق ہیں۔

ان کے بہ قول اخوان المسلمون اور ایران دونوں ہی اپنے اپنے انقلابات کو برآمد کرنا چاہتے ہیں۔ اخوان اس وقت خلیجی حکمرانوں کی شہرت کو داغ دار کرنا چاہتی ہے اور ان کے نام کو بٹا لگانی چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ اخوان المسلمون نے مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کی فروری 2011ء میں اقتدار سے رخصتی کے بعد ملک میں منعقد ہونے والے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں واضح برتری حاصل کی تھی اور موجودہ صدر محمد مرسی ماضی میں اخوان کے لیڈر رہے ہیں۔ مصر میں بعد از انقلاب جمہوری طریقے سے اخوان المسلمون کی نمایاں کامیابی کے بعد سے خطے کے دوسرے ممالک کے مطلق العنان حکمران خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں اور انھیں عوام کی جانب سے جلد یا بدیر اپنی حکومتوں کے خلاف تحاریک کا خطرہ لاحق ہے۔



دوسری جانب القاعدہ کی شاخ ''جزیرہ نما عرب میں القاعدہ'' کو یمن میں حالیہ مہینوں کے دوران ہزیمت اٹھانے کے بجائے خلیجی ممالک اپنے لیے ایک خطرہ سمجھ رہے ہیں۔ یہ جنگجو جماعت القاعدہ کی سعودی اور یمنی شاخوں کے 2009ء میں ادغام کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی تھی۔ اس نے حالیہ برسوں کے دوران امریکا اور دوسرے ممالک میں متعدد ناکام بم حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے 2010ء میں انتہائی خفیہ طریقے سے دو پارسل بم امریکا بھیجنے کی ذمے داری قبول کی تھی لیکن ان میں سے ایک بم کو برطانیہ اور دوسرے کو دبئی میں پھٹنے سے پہلے ہی سراغ لگا لیا گیا تھا اور انھیں ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔