.

برطانیہ چار مشتبہ افراد گرفتار، انسداد دہشت گردی پولیس کے زیر تفتیش

شام میں جاری لڑائی میں حصہ لینے کی منصوبہ بندی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
برطانیہ میں انسداد دہشت گردی پولیس نے چار افراد کو شام میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی غرض سے جانے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے اور ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

برطانوی حکام نے بتایا ہے کہ ایک تینتیس سالہ نوجوان کو لندن کے گیٹ وک ائیر پورٹ سے بدھ کی سہ پہر گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت وہ برطانیہ سے بیرون ملک جانے کے لیے ایک طیارے پر سوار ہونے ہی والا تھا جبکہ تین نوجوانوں کو جمعرات کی صبح مشرقی لندن میں ان کی قیام گاہوں سے پکڑا گیا ہے۔ ان کی عمریں اٹھارہ ،بائیس اور اکتیس سال ہیں۔

ان چاروں افراد کو برطانیہ کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دہشت گردی کی سرگرمیوں کی تیاری،ان کی شہ دینے اور منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے لیکن فوری طور پر ان کی شہریت نہیں بتائی گئی کہ آیا وہ شامی شہری ہیں یا کسی اور ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔

ان چاروں افراد کی گرفتاری پہلے سے گرفتار دو اور افراد سے تفتیش کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔ ان دونوں افراد کو شام میں دو مغربی فوٹو گرافروں کے اغوا کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر بھی دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ ڈچ فوٹو گرافر جیرون اورل مینز اور ان کے برطانوی ساتھی جان کینٹلئی کو 17 جولائی 2012ء کو شام کے ترکی کی سرحد کے ساتھ ملحقہ علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔ تاہم انھیں نو روز بعد 26 جولائی کو رہا کر دیا گیا تھا۔

گذشتہ سال برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے خبردار کیا تھا کہ برطانیہ میں مقیم بعض لوگ شام میں جا کر حکومت اور باغی جنگجوؤں کے درمیان جاری لڑائی میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ یہ لوگ لڑائی میں کس فریق کا ساتھ دینا چاہتے تھے اور برطانیہ نے انھیں جانےکی اجازت کیوں نہیں دی تھی۔