.

پیرس کرد موومنٹ کی بانی رہنما سمیت 3 کرد خواتین ہلاک

ملہوکین کے سر اور گردن میں گولیاں ماری گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں کردستان ورکرز پارٹی کی بانی رہنما سمیت تین عسکریت پسند مردہ حالت میں پائے گئے ہیں، تینوں افراد کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب ایک دن قبل یہ رپورٹس موصول ہوئی تھیں کہ ترک حکومت اور پابندی کا شکار تنظیم کرستان ورکرز پارٹی کے جیل میں موجود رہنما کے درمیان تین دہائیوں سے جاری تنازع کو ختم کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں کو سر اور گردن میں گولیاں ماری گئیں، واقعے کے خلاف سینکڑوں مشتعل کرد باشندوں نے پیرس میں کردستان انفارمیشن سینٹر کے باہر مظاہرہ کیا تاہم پولیس نے حالات پر قابو پا لیا۔

وزیر داخلہ مینوئل والز نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تینوں خواتین کو قتل کر دیا گیا ہے۔

کرد موومنٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہلاکتیں پی کے کے کی اندرونی دشمنی، ذاتی دشمنی، ترک ایجنٹوں کا کام یا دائیں بازو کے ترک شدت پسندوں کی کارروائی بھی ہو سکتی ہیں۔

پیرس میں مظاہرہ کرنے والے کرد مظاہرین اس بات پر مصر تھے کے یہ کام ترک ایجنٹوں نے کیا ہے جبکہ ترک آفیشل کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی وجہ کردستان ورکرز پارٹی کے اندرونی اختلافات ہو سکتے ہیں۔

ترکی کے وزیر طیب اردگان کا کہنا ہے کہ اس پر تبصرہ کرنا قبل از وقت ہو گا تاہم انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب حکومت اور جیل میں قید کرد رہنما عبداللہ اوجلان کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں، اس کارروائی کا مقصد اشتعال دلانا بھی ہو سکتا ہے۔

ترک ذرائع ابلاغ نے بدھ کو رپورٹ کو کیا تھا کہ ترک حکومت اور اوجلان کے درمیان بغاوت کے خاتمے کیلیے روڈ میپ پر اتفاق ہو گیا تھا، تین دہائیوں سے جاری اس بغاوت میں 45 ہزار سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں اکثریت کرد باشندوں کی ہے۔

پیرس سینٹر میں ہلاک ہونے والوں میں پی کے کے کی بانی رہنما اور اوجلان کی قریبی ساتھی سکین کانسز بھی شامل ہیں۔

شینٹر ڈائریکٹر لیون ایڈارٹ کے مطابق ان تینوں کو اس سے قبل بدھ کی دوپہر سینٹر کی بلڈنگ کی پہلی منزل پر زندہ دیکھا گیا تھا۔

ڈارٹ نے مزید بتایا کہ ان کے دوستوں اور ساتھیوں نے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے، اس کے بعد انہوں نے سینٹر کا رخ کیا تو کمرے کے دروازے پر خون لگا ہوا پایا اور پھر جب بدھ کی رات ایک بجے یہ دروازہ توڑ کر اندر داخل تو ان کی خون میں لت پت لاشیں پڑی ملیں۔

کرد فیڈریشن نے بتایا کہ دو خواتین کو گردن کے پچھلے حصے کی جانب گولی ماری گئی جبکہ تیسری کے ماتھے اور پیٹ پر زخموں کے نشان تھے۔

یاد رہے کہ فرانس میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ کرد باشندے آباد ہیں جن میں سے اکثر کا تعلق ترکی سے ہے۔