.

تیونسی انقلاب افراتفری کی نذر ہونے کا اندیشہ ہے راشد الغنوشی

سابق صدر کی رخصتی کے دو سال مکمل ہونے پر تقریبات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس کی حکمران جماعت نہضت اسلامی کے سربراہ راشد الغنوشی نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں آنے والا انقلاب 'افراتفری' میں تبدیل ہو رہا ہے۔ راشد الغنوشی کا انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب ملک میں رونما ہونے والے واقعات کا تعلق پرتشدد کارروائیوں سے جوڑا جا رہا ہے۔

سابق صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خاتمے کے دو برس مکمل ہونے پر تنظیمی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے راشد الغنوشی نے کہا کہ بہت سے ملکوں میں ظالم حکومتوں کی بساط لپیٹ دی گئی لیکن آزادی کے غلط استعمال کے باعث وہ ملک جہموری ریاست نہیں بن سکے۔

تیونسی دارالحکومت کے جنوب میں واقع قصبے رواد میں پارٹی کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم تیونس کو صومالیہ نہیں بننے دیں گے جہاں انقلاب کے بعد افراتفری شروع ہو گئی۔

عوامی انتفاضہ کے ثمرات سمیٹنے سے متلعق راشد الغنوشی کا اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تیونس میں عوام کشیدہ سماجی اور سیکیورٹی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملکی معیشت کمزور ہو رہی ہے اور نئے دستور سے متعلق معاملات ڈیڈ لاک کا شکار ہیں۔

گذشتہ برس ملک میں ہونے والی ہڑتالیں اور مظاہرے پرتشدد کارروائیوں پر منتج ہوتے رہے ہیں۔ نومبر 2012ء کے دوران ملک کے جنوب مغربی شہر سیلانا میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں تین سو افراد زخمی ہوئے تھے۔



نہضت اسلامی کی قیادت میں تیونس کی اتحادی حکومت معزول صدر کی بیدخلی کی دوسری سالگرہ کا جشن منانے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ اس مقصد کے لئے دارالحکومت تیونس کی سڑکوں پر قومی پرچموں کی بہار دکھائی دے رہی ہے۔ مختلف ثقافتی تقریبات کے لئے کھلے میدانوں میں خیمے لگائے گئے ہیں۔ پیر کو ہونے والے مرکزی تقریب میں عرب بہاریہ ممالک مصر اور لیبیا سے بھی نمائندے شریک ہوں گے۔