.

تیونس میں پہلے عرب بہاریہ انقلاب کی دوسری سالگرہ پر تقریبات

انقلاب کے دو سال بعد نوجوان بے یقینی کی کیفیت سے دوچار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس میں عدم استحکام اور سماجی کشیدگی کے تناظر میں پہلے عرب بہاریہ انقلاب کی آج سوموار کو دوسری سالگرہ منائی جارہی ہے اور اس موقع پر جلسے، جلوسوں اور ریلیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

تیونس کے صدر منصف مرزوقی گرینچ معیاری وقت کے مطابق سات بجے دارالحکومت تیونس کے قصبہ اسکوائر میں قومی پرچم کو لہرا کر سالگرہ کی تقریبات کا آغاز کرنے والے تھے۔

تیونس کی مخلوط حکومت اس موقع پر قومی آئین ساز اسبملی میں ٹریڈ یونینوں کے نمائندوں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ایک سماجی معاہدہ بھی کرنے والی ہے۔اس کا مقصد ملک کی لڑکھڑاتی معیشت کو سہارا دینا ہے۔ دو اور عرب بہاریہ ممالک مصر اور لیبیا کے مندوبین بھی تیونس میں منعقدہ تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں۔

اسلامی جماعت النہضہ کی قیادت میں تیونس کی مخلوط حکومت اب تک غُربت اور بے روزگاری جیسے مسائل پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے ملک کے پڑھے لکھے نوجوانوں میں مایوسی پائی جا رہی ہے اور انھوں نے گذشتہ مہینوں کے دوران متعدد مرتبہ حکومت کے خلاف پُرتشدد احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

یاد رہےکہ تیونس میں پُرتشدد ہنگاموں اور احتجاجی مظاہروں کے بعد مطلق العنان سابق صدر زین العابدین بن علی 14جنوری 2011ء کو راہ فرار اختیار کر کے سعودی عرب چلے گئے تھے اور اس وقت سے وہ وہاں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی رخصتی کو ''یاسمین انقلاب'' کا نام دیا گیا تھا۔ اس سے دوسرے عرب ممالک میں حکومتوں کے مخالفین بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے تھے۔

تیونس میں عوامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اس کے دیکھا دیکھی لیبیا، مصر اور بعض دوسرے عرب ممالک میں بھی مطلق العنان حکمرانوں کے خلاف مظاہروں شروع ہو گئے تھے۔ مصر کے صدر حسنی مبارک بھی اپنے مخالفین کی ایک ماہ سے بھی کم احتجاجی تحریک کے بعد مستعفی ہونے پر مجبور ہو گئے تھے جبکہ لیبیا کے صدر معمر قذافی اپنے خلاف مسلح عوامی تحریک میں اقتدار کے ساتھ جان سے بھی گئے تھے جبکہ اس وقت شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف احتجاجی تحریک زوروں پر ہے اور ان کے اقتدار کی کشتی بھی ڈگمگا رہی ہے۔