.

مدینہ منورہ اور مشرقی صوبے کے نئے گورنروں کا تقرر

شہزادہ سعود اور شہزادہ فیصل کو نئی ذمے داریاں تفویض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے مدینہ منورہ اور تیل کی دولت سے مالامال مشرقی صوبہ کے نئے گورنر کا تقرر کیا ہے۔

ریاض میں شاہ عبداللہ کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ فرمان کے مطابق انھوں نے شہزادہ فیصل بن سلمان کو مدینہ منورہ کے علاقے کا گورنر مقرر کیا ہے۔ اس حیثیت میں ان کا مرتبہ سعودی وزیر کے برابر ہو گا۔

شہزادہ فیصل کو شہزادہ عبدالعزیز بن ماجد کی جگہ گورنر بنایا گیا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ شاہی بیان کے مطابق شہزادہ عبدالعزیز نے اپنے منصب سے سبکدوش ہونے کی درخواست کی تھی۔

شاہ عبداللہ نے آج جاری کردہ ایک اور حکم نامے کے تحت شہزادہ محمد بن فہد کی جگہ شہزادہ سعود بن نایف کو مشرقی صوبہ کا گورنر مقرر کیا ہے۔ ان کے پیش رو نے بھی اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہونے کی درخواست کی تھی۔

شہزادہ سعود سعودی وزیر داخلہ محمد بن نایف کے بڑے بھائی ہیں۔ وہ اسپین میں سعودی سفیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، انھیں ان کے مرحوم والد سعودی عرب کے سابق ولی عہد شہزادہ نایف کے ایوان میں خدمات انجام دینے کے لیے ریاض طلب کر لیا گیا تھا۔ ستاون سالہ شہزادہ سعود اس وقت ولی عہد کی عدالت کے سربراہ اور سعودی ولی عہد کے خصوصی مشیر کے عہدے پر فائز ہیں۔

مدینہ کےنئے گورنر شہزادہ فیصل بن سلمان کی عمر تینتالیس سال ہے۔وہ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور اس وقت وہ مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے سعودی ریسرچ اور مارکیٹنگ گروپ (ایس آر ایم جی) کے چئیرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

وہ سعودی عرب کے وزیر دفاع اور ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کے پانچویں بیٹے ہیں۔عرب بزنس میگزین نے انھیں سن 2004ء میں ''سال کا آدمی'' قرار دیا تھا۔ اس کے پانچ سال کے بعد انھیں عرب میڈیا فورم نے سال کی ''میڈیا شخصیت'' قرار دیا تھا۔