.

الجزائر میں القاعدہ کمانڈرکا بیسیوں افراد کو یرغمال بنانے کا دعویٰ

فرانس سے مالی میں فضائی حملے بند کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شمالی افریقہ کے ممالک میں مقامی حکومتوں کے خلاف بر سر پیکار جنگجو تنظیم ''اسلامی مغرب میں القاعدہ'' کے رہ نما مختار بالمختار نے الجزائر میں بیسیوں افراد کو یرغمال بنانے کی ذمے داری قبول کر لی ہے اور فرانس سے مالی میں فضائی حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

موریتانیہ کی ایک نیوز ویب سائٹ صحارا میڈیا نے مختار بالمختار کے ایک ویڈیو بیان کے حوالے سے ان کے اس دعوے کی اطلاع دی ہے۔الجزائر سے تعلق رکھنے والے القاعدہ کے لیڈر نے کہا کہ ''ہم مغرب اور الجزائری حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مالی میں مسلمانوں کے خلاف بمباری کا سلسلہ بند کردیں''۔

صحارا میڈیا نے اپنی ویب سائٹ پر القاعدہ کے رہ نما کی ویڈیو پوسٹ نہیں کی۔اس لیے فوری طور پر مختار بالمختار کی اس ویڈیو پر مبنی دعوے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ واضح رہے کہ یہ ویب سائٹ ماضی میں بھی اسلامی مغرب میں القاعدہ کے لیڈروں کی ویڈیوز یا بیانات جاری کرتی رہی ہے۔

مختار نے اس ویڈیو میں دعویٰ کیا ہے کہ الجزائر کے عین امیناس گیس فیلڈ میں مقامی ملازمین اور غیر ملکیوں کو یرغمال بنانے کی کارروائی میں چالیس مجاہدین نے حصہ لیا تھا۔ان میں سے زیادہ تر مسلم ممالک اور بعض مغربی ممالک سے بھی تعلق رکھتے تھے۔

الجزائر کی سکیورٹی فورسز کو اتوارکو گیس فیلڈ سے پچیس یرغمالیوں کی لاشیں ملی ہیں۔ الجزائری فورسز نے بدھ کی صبح سے اس گیس فیلڈ کا محاصرہ کر رکھا تھا اور انھوں نے مہارت سے کارروائی کرکے بہت سے یرغمالیوں کو بہ حفاظت رہا کرا لیا تھا۔تاہم بعض عینی شاہدین کاکہنا ہے کہ نو جاپانی یرغمالیوں کو مسلح افراد نے ہلاک کردیا تھا اور یہ جاپانی بس کے ذریعے فرار کی کوشش میں مارے گئے تھے۔

موریتانیہ کی خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے ایک اغوا کار کے بیان کے حوالے سے جمعہ کو یہ اطلاع دی تھی کہ الجزائری فوج نے غیر ملکیوں کو بازیاب کرانے کے لیے عین امیناس گیس فیلڈ پر فضائی حملہ کر دیا ہے جس کے نتیجے میں چونتیس یرغمالی اور القاعدہ سے وابستہ چودہ جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔ عین امیناس گیس فیلڈ میں مسلح افراد اکتالیس غیر ملکیوں اور بیسیوں مقامی کارکنان کے ساتھ موجود تھے۔ اس واقعہ کے فوری بعد اسلامی جنگجو لیڈر مختار بالمختار نے انھیں یرغمال بنانے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

واضح رہے کہ عین امیناس گیس فیلڈ الجزائر کے لیبیا کے ساتھ سرحدی علاقے میں واقع ہے۔برطانیہ کی تیل کمپنی بی پی ،ناروے کی اسٹیٹ آئیل اور الجزائر کی توانائی فرم سوناتریش مشترکہ طور پر اس کا انتظام چلاتی ہیں۔اس گیس فیلڈ کے بعض ملازمین نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد ساٹھ کے لگ بھگ تھی اور وہ مالی اور دوسرے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔انھوں نے مالی میں فرانس کی فوجی مداخلت کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔

الجزائر میں برطانوی کمپنی کے زیر انتظام گیس فیلڈ پر حملے سے ان خدشات کو تقویت ملے ہے کہ مالی پر فرانس کے حملے کے بعد اب افریقی ممالک میں اسلامی جنگجو یا القاعدہ سے وابستہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے شدت پسند مغربی اہداف کو نشانہ بناسکتے ہیں اور ان کی کارروائیوں کا دائرہ کار اب صرف مالی تک محدود نہیں رہے گا۔