.

الجزائر میں یرغمالیوں کی ہلاکت کے ذمہ دار دہشت گرد ہیں براک اوباما

برطانیہ نے حملے میں ہلاک اور زندہ افراد کی تفصیل مانگ لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے الجزائر میں غیر ملکی یرغمالیوں کے قتل کی ذمہ داری دہشت گردوں پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی الجزائر میں عین امیناس گیس پلانٹ پر حملہ دراصل القاعدہ کی جانب سے درپیش خطرات کی نشاندہی ہے۔ الجزائر، امریکا سمیت متعدد ملکوں کے شہریوں کی سیکیورٹی فورسسز کے آپریشن میں ہلاکت کے بعد امریکی صدر کا یہ پہلا بیان ہے۔

یہ بیان الجزئر بحران کے چار دن بعد جاری کیا گیا ہے۔ بیان میں براک اوباما نے بازیانی آپریشن میں ہلاک و زخمی ہونے والے مغربی ملکوں کے شہریوں کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی تمام تر ذمہ داری دہشت گردوں پر عاید ہوتی ہے کہ جو اس صورتحال کا سبب بنے۔ 'امریکا اس دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتا ہے۔"

انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں کا صحرا میں عین امیناس گیس پلانٹ پر حملہ دراصل شمالی افریقہ میں القاعدہ سمیت دوسری انتہا پسند تنظیموں کی صورت میں موجود خطرات کی یاد دہانی ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ہم الجزائر حکومت سے رابطے میں رہیں گے تاکہ معاملے کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھا جا سکے تاکہ مل کر ایسے اقدام کئے جا سکیں تاکہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ کیا جا سکے۔

ادھر برطانوی وزیر دفاع فیلپ ہامونڈ نے یرغمالیوں کی ہلاکت کی ذمہ داری بھی دہشت گردوں پر ڈالتے ہوئے الجزائر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مارے جانے والے یرغمالیوں کی اصل تعداد سے آگاہ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ الجزائر دہشت گردی کے واقعے کے بعد سے ہم الجزائر حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ہمیں ملنے والی آخری اطلاعات میں بتایا گیا ہے اغوا کاروں کے خلاف الجزائر فوج کے آپریشن میں ایک برطانوی شہری ہلاک ہوا۔ الجزائر سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ آپریشن میں مارے جانے والوں اور بازیاب کرائے جانے والوں کی اصل تعداد کے بارے میں آگاہ کرے۔ "بےگناہ یرغمالیون کی ہلاکت دل دہلا دینے والی کارروائی ہے۔ ایسے اقدام کسی طور پر قبول نہیں۔ اس سارے واقعے کی ذمہ داری صرف اور صرف دہشت گردوں پر عاید ہوتی ہے۔"