.

ایران شہری پر خنجر سے حملے کے جرم میں دو مجرموں کو پھانسی

شہری کو لوٹنے اور خنجر مارنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران میں دو افراد کو تہران میں ایک شخص پر خنجر سے حملے کے جرم میں پھانسی دے دی گئی ہے۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی ایسنا کی رپورٹ کے مطابق ایک انقلابی عدالت نے ان دونوں افراد کو سزائے موت سنائی تھی اور عدالت عظمیٰ نے اس سزا کو برقرار رکھا تھا۔اس سزا پر اتوار کو مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھے بجے عمل درآمد کیا گیا ہے اور دونوں مجرموں کو قریباً تین سو افراد کی موجودگی میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔

ان دونوں کی شناخت علی رضا مافیہا اور محمد علی سروری کے نام سے کی گئی ہے۔دونوں کی عمریں چوبیس برس سے کم تھی اور انھیں فساد فی الارض اور محاربہ قراردیا گیا تھا۔ایران میں آتشیں اسلحہ، چاقو، خنجر اور آہنی راڈوں کا استعمال کرنے والے کو محاربہ قرار دیا جاتا ہے اور اس اسلحے کی سزا موت ہے۔

ان دونوں افراد کو یو ٹیوب پر ایک ویڈیو کے پوسٹ ہونے کے بعد ان کے دو اور ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ اس ویڈیو میں ان دونوں نے ایک شخص پرخنجر سے حملہ کیا تھا اور اس سے نقدی ،بیگ اور کوٹ چھین لیا تھا۔یہ ویڈیو 6دسمبر کو پوسٹ کی گئی تھی اور اسے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کیا گیا تھا۔

اس فوٹیج میں چاروں ملزمان موٹر بائیسکلوں پر سوار ہو کر جائے واردات پر آئے تھے۔ان میں سے دو نے اس شخص پر خنجر سے حملہ کیا تھا اور پھر وہ راہ فرار اختیار کر گئے تھے۔

ایسنا کی اطلاع کے مطابق ان مجرموں کے دونوں ساتھیوں کو دس دس سال قید ،چوہتر کوڑوں اور پانچ سالہ جلا وطنی کی سزا سنائی گئی تھی۔ایرانی عدلیہ نے اس واقعہ کی تفصیل منظر عام پر آنے کے بعد کہا تھا کہ ٹھگوں اور ڈاکوؤں کو سخت سزائیں سنائی جائیں گی کیونکہ ان کی واردات کے بعد عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا تھا۔