.

بلغاریہ میں ترک نژاد سیاسی رہنما پر ناکام قاتلانہ حملہ

نامعلوم نوجوان کے پسٹل سے گولی نہیں چل سکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
بلغاریہ کی حکومت مخالف جماعت 'حقوق اور حریت' کے سربراہ احمد دوغان تنظیمی اجلاس سے خطاب کے دوران قاتلانہ حملے سے بال بال بچے گئے۔ حقوق اور حریت جماعت کے بیشتر ارکان ترک ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مسٹر دوغان معمول کے آٹھویں تنظیمی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے کہ ایک نامعلوم نوجوان ہاتھ میں پسٹل لئے قطاریں پھلانگتا اسٹیج کی جانب لپکا۔ خوش قسمتی سے کسی خرابی کی وجہ سے اس سے گولی نہیں چل کی۔

اسٹیج پر موجود پارٹی ارکان نے کمال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سربراہ کو بچانے کے لئے آگے بڑھے اور احمد دوغان کو حملہ آور سے بچانے کے لئے زمین پر لٹا دیا۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے اسی اثنا میں حملہ آور کو دبوچ کر قابو پا لیا۔

حملے کی وجہ سے اجلاس کی کارروائی نصف گھنٹے تک رکی رہی۔ اجلاس کے دوبارہ آغاز پر تنظیم کے نائب صدر اونال لطفی نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ دوغان بہ خریت ہیں۔

ترک خبر رساں ادارے 'اناطولیہ' سے گفتگو کرتے ہوئے 'حقوق اور حریت' کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ بننے والے رمزی عثمان نے اپنی جماعت کے سربراہ پر ناکام قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی۔

حملہ آور کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ 25 سالہ حملہ آور اوکتائی حسنوف ینی محمدوف بلغاریہ کا تعلق جنوب مشرقی بلغاریہ کے شہر 'بورغاز' سے بتایا جاتا ہے۔