.

ریاض میں دو روزہ عرب اقتصادی کانفرنس کا آغاز

خطے کے عوام کی اُمنگوں پر پورا اُترنے کے عزم کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں تیسری عرب اقتصادی، سماجی اور ترقیاتی کانفرنس شروع ہو گئی ہے۔ اس دو روزہ کانفرنس میں عرب دنیا میں اتھل پتھل کے تناظر میں اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ سعودالفیصل نے ہفتے کے روز کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلہ میں اجلاس میں کہا تھا کہ ''اس اقتصادی کانفرنس کو محض ایک معمول کی سرگرمی نہیں ہونا چاہیے''۔ انھوں نے کہا کہ عرب دنیا کو گذشتہ دو سال کے دوران سیاسی اتھل پتھل کا سامنا ہوا ہے لیکن ہم ان کے اقتصادی پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ''ہماری دو روزہ کانفرنس میں عام لوگوں کی زندگیوں سے متعلق مسائل اور ایشوز کا حل تلاش کیا جانا چاہیے اور ہمیں لوگوں کی خواہشات پر پورا اترنا چاہیے''۔

عرب اقتصادی کانفرنس میں متعدد عرب ممالک کے صدور اور وزراء شرکت کر رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر اتوار اور سوموار کی صبح سعودی عرب پہنچ گئے تھے۔ واضح رہے کہ بیشترعرب ممالک کو اس وقت غُربت ،بے روزگاری اور سماجی ناہمواریوں جیسے مسائل کا سامنا ہے اور انھی مسائل نے تیونس میں 2010ء کے آخر میں مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خلاف عوامی انقلابی تحریک کو جنم دیا تھا اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے عرب بہاریہ کے نام سے مصر، لیبیا، یمن، شام اور اردن وغیرہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

واضح رہے کہ معاشی ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ عرب دنیا عوامی احتجاجی تحریکوں سے حاصل ہونے والے ثمرات سے محروم ہو سکتی ہے اور وہ انقلابات کے بعد ترقی کے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدے اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔

حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ایک اقتصادی رپورٹ کے مطابق سال 2011ء میں عرب ممالک میں بے روزگاری کی شرح سولہ فی صد تھی اور کل تیس کروڑ آبادی میں سے ایک کروڑ ستر لاکھ نفوس بے روزگار تھے جبکہ خطے میں عرب ممالک کے مابین سرمایہ کاری کا حجم بھی صرف پچیس ارب ڈالرز کے لگ بھگ ہے۔