.

متنازع بنگلہ دیشی ٹربیونل نے جماعت اسلامی کے رہنما کو سزائے موت سنا دی

اقوامِ متحدہ اس ٹربیونل کو تسلیم نہیں کرتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
بنگلہ دیش میں متنازع حکومتی ٹربیونل نے جماعت اسلامی کے ایک اہم مسلم رہنما کو چالیس برس قبل ملک کی 'آزادی کی تحریک' کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم پر موت کی سزا سنائی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ڈھاکہ میں مولانا عبدالکلام آزاد کو ٹربیونل نے پیر کو ان کی عدم موجودگی میں سزا سنائی۔

اسلامی ٹی وی کے سابق میزبان مولانا عبدالکلام آزاد پر یہ الزامات گزشتہ برس عائد کیے گئے تھے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اب ملک سے فرار ہو چکے ہیں، ملک چھوڑنے پر جماعت اسلامی نے بھی ان کی رکنیت منسوخ کر دی تھی۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ عبدالکلام آزاد نے نہ صرف سنہ انیس سو اکہتر کی ’جنگِ آزادی‘ میں چھ ہندوؤں کو گولی مار کر ہلاک کیا بلکہ ایک ہندو عورت سے جنسی زیادتی بھی کی۔

ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بنگلہ دیشی حکومت کی حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف چلائی گئی مہم کا حصہ ہیں۔ عبدالکلام آزاد وہ پہلے شخص ہیں جنہیں بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے تین برس قبل بنائے جانے والے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے مجرم قرار دیا ہے۔

یہ ٹربیونل بنگلہ دیش کے ان شہریوں پر مقدمات چلانے کے لیے قائم کیا گیا تھا جن پر پاکستانی فوج کے ساتھ ساز باز کر کے کئی ماہ پر محیط تشدد کے دور میں زیادتیاں کرنے کے الزامات ہیں۔ اقوامِ متحدہ اس ٹربیونل کو تسلیم نہیں کرتی۔

اس ٹربیونل نے اب تک ملک کی سب سے بڑی اسلامی جماعت کے کئی رہنماؤں سمیت متعدد افراد کو جنگی جرائم میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کروایا ہے جبکہ گرفتار ہونے والے تمام رہنما جنگی جرائم کے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ دسمبر سنہ انیس سو اکہتر تک آج کا بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا اور اسے مشرقی پاکستان کہا جاتا تھا۔

تاہم انیس سو اکہتر کے اوائل میں علیحدگی کے لیے شروع ہونے والی لڑائی نو ماہ تک جاری رہی جس کے دوران بنگلہ دیش کے قوم پرستوں کے مطابق تیس لاکھ افراد لقمۂ اجل بن گئے تھے اور سولہ دسمبر 1971 کو بنگلہ دیش ایک الگ ملک بن گیا تھا۔