.

نیٹو کے چھے پیٹریاٹ میزائلوں میں سے ایک کی ترکی آمد

شامی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے فضائی دفاعی نظام کی تنصیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کی چھے میزائل بیڑیوں میں سے ایک جرمنی سے بحری جہاز کے ذریعے ترکی کی بندرگاہ اسکندرون پہنچ گئی ہے۔ اس بیٹری کو ترکی کو شام کی ممکنہ جارحیت سے بچانے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقے میں نصب کیا جائے گا۔

جرمنی کی فوجی گاڑیوں کی بندرگاہ آمد کے موقع پر ترکی کی کمیونسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے کم سے کم ڈیڑھ سو کارکنان نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور انھوں نے بندرگاہ کے داخلی دروازے پر لگے امریکی پرچم نذر آتش کر دیے۔

درایں اثناء یہ اطلاع بھی سامنے آئی ہےکہ نیٹو کے میزائل دفاعی مشن میں حصہ لینے کے نیدرلینڈز کا دوسو ستر فوجیوں پر مشتمل دستہ بھی اپنے ملک سے روانہ ہو گیا ہے اور وہ ترکی پہنچنے والا تھا۔

نیدرلینڈز، جرمنی اور امریکا دو، دو پیٹریاٹ میزائل بیٹریز ترکی بھیج رہے ہیں جو شام کی سرحد کے ساتھ علاقے میں نصب کی جائیں گی۔ ترکی نے نیٹو سے گذشتہ سال کے آخر میں شام کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں اور جارحیت کا توڑ کرنے کے لیے نو سو کلومیٹر طویل سرحد پر میزائل دفاعی نصب کرنے کی درخواست کی تھی۔

شام نے پیٹریاٹ میزائلوں کی پڑوسی ملک میں آمد کو ایک اشتعال انگیز اقدام قرار دیا ہے لیکن نیٹو کے پیٹریاٹ دفاعی نظام کے ترجمان ڈچ فوج کے لیفٹیننٹ کرنل دریوز کیپرچیزک کا کہنا ہے کہ یہ مشن خالصتاً دفاعی مقصد کے لیے ہے۔ یہ ترک آبادی اور علاقے کو درپیش ممکنہ میزائل خطرے کا سدباب کرنے کے لیے نصب کیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پیٹریاٹ میزائل بیٹریز فروری کے پہلے ہفتے میں تنصیب کے بعد فعال ہو جائیں گی اور ان سے خطے میں رہنے والے پینتیس لاکھ افراد کو تحفظ حاصل ہو گا۔