.

گیس فیلڈ پر حملہ آور جنگجو مالی سے آئے تھے وزیر اعظم

8 ممالک سے تعلق رکھنے والے 37 یرغمالی مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
الجزائر کے وزیر اعظم عبدالمالک سلال نے کہا ہے کہ عین امیناس گیس فیلڈ میں الجزائری شہریوں اور غیر ملکیوں کو یرغمال بنانے والوں کا مالی کے شمالی علاقے سے تعلق تھا۔ان کے حملے میں سینتیس غیر ملکی کارکنان مارے گئے تھے۔

وزیر اعظم نے دارالحکومت الجزائر میں نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ان کی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں انتیس جنگجو مارے گئے تھے اور تین کو زندہ گرفتار کر لیا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ حملہ آوروں نے گیس فیلڈ کو دھماکے سے اڑانے کی دھمکی دی تھی اور ان میں ایک کینیڈین شہری بھی شامل تھا جوان کی قیادت کر رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ القاعدہ سے وابستہ گروپ کے ارکان کی اس کارروائی کا مقصد مالی میں فرانسیسی فوج کے حملوں کو رکوانے کے لیے اپنے مطالبات کو منوانا تھا لیکن الجزائری فوج نے یرغمالیوں کو مالی لے جانے کی ان کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ''جنگجوؤں کی کارروائی میں سینتیس یرغمالی مارے گئے تھے۔ ان کا تعلق آٹھ ممالک سے تھا تاہم سات یرغمالیوں کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ہے جبکہ پانچ مسلح حملہ آوروں کا بھی تاحال پتا نہیں چل سکا۔ حملہ آوروں لیبیا سے الجزائر کے علاقے میں داخل ہوئے تھے۔

درایں اثناء یہ اطلاع بھی سامنے آئی ہے کہ غیر ملکیوں کو یرغمال بنانے والے مسلح حملہ آوروں میں دو کینیڈین شہری شامل تھے۔ ان میں ایک کا نام شداد تھا اور وہی حملہ آوروں کی قیادت کررہا تھا۔کینیڈا کے محکمہ خارجہ نے اس جنگجو کی شناخت سے متعلق الجزائر سے مزید تفصیل فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

گذشتہ روز''اسلامی مغرب میں القاعدہ'' کے رہ نما مختار بالمختار نے گیس فیلڈ میں بیسیوں الجزائری شہریوں اور غیرملکیوں کو یرغمال بنانے کی ذمے داری قبول کی تھی اور فرانس سے مالی میں فضائی حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ الجزائر سے تعلق رکھنے والے القاعدہ کے اس لیڈر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ''ہم مغرب اور الجزائری حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مالی میں مسلمانوں کے خلاف بمباری کا سلسلہ بند کر دیں''۔

مختار نے اس ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ الجزائر کے عین امیناس گیس فیلڈ میں مقامی ملازمین اور غیر ملکیوں کو یرغمال بنانے کی کارروائی میں چالیس مجاہدین نے حصہ لیا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر مسلم ممالک اور بعض مغربی ممالک سے بھی تعلق رکھتے تھے۔

موریتانیہ کی خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی اطلاع کے مطابق الجزائری فوج نے گذشتہ جمعہ کو غیر ملکیوں کو بازیاب کرانے کے لیے عین امیناس گیس فیلڈ پر فضائی حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں چونتیس یرغمالی اور القاعدہ سے وابستہ چودہ جنگجو ہلاک ہو گئے تھے۔

عین امیناس گیس فیلڈ الجزائر کے لیبیا کے ساتھ سرحدی علاقے میں واقع ہے۔برطانیہ کی تیل کمپنی بی پی ،ناروے کی اسٹیٹ آئیل اور الجزائر کی توانائی فرم سوناتریش مشترکہ طور پر اس کا انتظام چلاتی ہیں۔ اس گیس فیلڈ کے بعض ملازمین نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد ساٹھ کے لگ بھگ تھی اور وہ مالی اور دوسرے ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے مالی میں فرانس کی فوجی مداخلت کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔

مالی اور فرانسیسی فوج کی پیش قدمی

ادھر مالی میں فرانس اور مالی کے فوجیوں نے پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور انھوں نے شمالی شہروں ضیابلی اور دوانتضیٰ سے القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کو نکال باہر کیا ہے اور ان کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

فرانس کے وزیر دفاع نے پیرس میں ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ مالی کے فوجیوں نے فرانسیسی فوجیوں کی مدد سے دو شہروں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور یہ ایک بہت بڑی فتح ہے۔

اطلاعات کے مطابق تیس بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل فوجی قافلہ آج دارالحکومت باماکو سے چار سو کلومیٹر شمال میں واقع ضیا بلی میں داخل ہو گیا ہے اور انھیں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ مقامی لوگوں نے کم سے کم دو سو مالی اور فرانسیسی فوجیوں کے شہر میں داخلے وقت ان کا شاندار استقبال کیا۔