.

یمن امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے چار جنگجو ہلاک

شہری علاقوں پر حملوں کے خلاف قبائلیوں کا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
یمن کے وسطی علاقے میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے حملے میں القاعدہ کے چار مشتبہ جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔

یمن کی وزارت دفاع نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''وسطی صوبے مآرب کے شہر العطیف میں ایک فضائی حملے میں جنگجوؤں کے زیر استعمال گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ حملہ کس نے کیا ہے؟

دوسری جانب یمن کے قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک بغیر پائلٹ جاسوس طیارے نے مآرب اور دارالحکومت صنعا کے درمیان مرکزی شاہراہ پر ایک کار پر میزائل حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں کار کو آگ لگ گئی اور اس میں سوار القاعدہ کے چار مشتبہ جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔

یمن کے وسطی علاقے میں گذشتہ تین روز میں امریکی سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کا یہ تیسرا حملہ تھا۔ مآرب میں ہفتے اور اتوار کو دو اور ڈرون حملوں میں چھے مشتبہ مزاحمت کار مارے گئے تھے۔ اتوار کو یمن کے جنوبی علاقے میں ایک مکان میں بم دھماکے کے نتیجے میں القاعدہ کے دس اور مشتبہ جنگجو ہلاک ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ امریکی سی آئی اے نے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے یمن میں گذشتہ سال سے حملے تیز کر رکھے ہیں لیکن امریکا نے سرکاری طور پر کبھی ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی اور نہ یمنی حکومت کی جانب سے ان حملوں کے خلاف کوئی احتجاجی بیان سامنے آیا ہے بلکہ امریکا کو القاعدہ کے جنگجوؤں کی بیخ کنی کے لیے یمن کی در پردہ حمایت حاصل ہے اور عوامی غیظ وغضب سے بچنے کے لیے سرکاری طور پر ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی جاتی۔

تاہم یمنی عوام ان ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور اتوار کو مسلح قبائلیوں نے مآرب اور صنعا کے درمیان مرکزی شاہراہ کو احتجاج کے طور پر بند کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری آبادی والے علاقوں میں ڈرون طیاروں سے میزائل حملے کیے جا رہے ہیں اور عام شہری بھی ان حملوں میں نشانہ بن رہے ہیں۔