.

الجزائر میں یرغمالیوں اور اغوا کاروں کی نئی ویڈیوز کا ظہور

اغوا کاروں اور فوجی افسروں کے درمیان مذاکرات کے مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
الجزائر کے ایک ٹی وی چینل نے لیبیا کی سرحد کے نزدیک واقع عین امیناس گیس فیلڈ میں ملکی اور غیر ملکی کارکنان کو یرغمال بنانے کے واقعہ کی نئی ویڈیوز جاری کی ہیں۔ ان میں یرغمالیوں کے بحران کے حوالے سے نئی تفصیل سامنے آئی ہے۔

العربیہ ٹی وی کو ان میں سے ملنے والی ایک ویڈیو میں یرغمالیوں کو الجزائر کے صحرا میں واقع تیل کمپنی میں محاصرے میں دیکھا جا سکتا ہے اور اس کی فضا میں الجزائر کے ہیلی کاپٹر پروازیں کر رہے ہیں۔ ایک اور ویڈیو میں اغوا کاروں اور الجزائری فوج کے درمیان مذاکرات کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔

اس ویڈیو میں ایک دہشت گرد کہہ رہا ہے:''ہم ان یرغمالیوں کو باری باری ختم کر دیں گے''۔اس کے جواب میں فوجی افسروں نے صبر وتحمل والا لب ولہجہ اختیار کر رکھا ہے۔ان میں سے ایک فوجی افسر کہتا ہے: ''ہم یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں گے اور اس معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے''۔

اس پر ایک اغوا کار کہتا ہے: ''اگر تم مداخلت نہیں کرنا چاہتے ہو تو پھر علاقے کا محاصرہ ختم کر دو''۔ فوجی افسر اس پر فوراً کہتا ہے:''ہم آپ سے یہ چاہتے ہیں کہ آپ یرغمالیوں کو رہا کر دیں''۔

ایک اور ویڈیو میں اغوا کار آپس میں بات چیت کر رہے ہیں اور وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ الجزائری فوج ان کی جانب آ رہی ہے۔ ان ویڈیوز میں ہالی وڈ کی فلموں کی طرح کے بھی مناظر نظر آ رہے ہیں۔ ایک ویڈیو میں ایک الجزائری فوجی آہستہ آہستہ رینگتے ہوئے یرغمالیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ بہت چوکنا ہو کر رینگ رہا ہے تاکہ دہشت گردوں کو اس کی نقل وحرکت کا پتا نہ چل سکے۔

الجزائر کے وزیر اعظم عبدالمالک سلال نے گذشتہ روز ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ''عین امیناس گیس فیلڈ میں الجزائری شہریوں اور غیر ملکیوں کو یرغمال بنانے والوں کا مالی کے شمالی علاقے سے تعلق تھا۔ ان کے حملے میں آٹھ ممالک سے تعلق رکھنے والے سینتیس کارکنان مارے گئے تھے جبکہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں انتیس جنگجو ہلاک ہو گئے تھے اور تین کو زندہ گرفتار کر لیا گیا تھا''۔

انھوں نے کہا کہ القاعدہ سے وابستہ گروپ کے ارکان کی اس کارروائی کا مقصد مالی میں فرانسیسی فوج کے حملوں کو رکوانے سے متعلق اپنے مطالبات کو منوانا تھا لیکن الجزائری فوج نے ان کی یرغمالیوں کو مالی لے جانے کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔ ان کے بہ قول تمام حملہ آور لیبیا سے الجزائر کے علاقے میں داخل ہوئے تھے۔

''اسلامی مغرب میں القاعدہ'' کے رہ نما مختار بالمختار نے اتوار کو گیس فیلڈ میں بیسیوں الجزائری شہریوں اور غیر ملکیوں کو یرغمال بنانے کی ذمے داری قبول کی تھی اور فرانس سے مالی میں فضائی حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ الجزائر سے تعلق رکھنے والے القاعدہ کے اس لیڈر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ''ہم مغرب اور الجزائری حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مالی میں مسلمانوں کے خلاف بمباری کا سلسلہ بند کر دیں''۔