.

سعودی عرب کو انتہائی مطلوب القاعدہ جنگجو کی یمن میں ہلاکت

امریکی اور یمنی فورسز کی مشترکہ کارروائی کا ڈراپ سین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کے شہری اور یمن میں القاعدہ کے نائب کمان دار سعید الشہری امریکی اور یمنی فوج کی مشترکہ کارروائی میں شدید زخمی ہونے بعد دم توڑ گئے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے نے منگل کو سعید الشہری کی موت کی اطلاع دی ہے۔ اس اطلاع کی مطابق القاعدہ کے اس کمانڈر کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ دسمبر 2012ء کے دوسرے ہفتے میں یمنی اور امریکی فوج کی یمن میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف مشترکہ کارروائی میں شدید زخمی ہو گئے تھے،بعد میں وہ کومے میں چلے گئے تھے۔ پھر انھیں مردہ قرار دے دیا گیا اور ان کی یمن ہی میں خاموشی سے تدفین کردی گئی تھی۔

سعید الشہری نے افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کے خلاف جاری جنگ میں حصہ لیا تھا اور امریکی فوج نے انھیں وہاں سے گرفتار کر کے گوانتانامو بے کے عقوبت خانے میں منتقل کر دیا تھا جہاں انھوں نے چھے سال قید کاٹی تھی اور انھیں 2007ء میں رہا کر کے سعودی عرب کے حوالے کیا گیا تھا۔

لشہری کو سعودی عرب میں دہشت گردوں اور جنگجوؤں کی بحالی کے لیے قائم کیے گئے ادارے میں منتقل کیا گیا تھا لیکن وہ وہاں سے فارغ ہونے کے بعد ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں بھاگ کر یمن چلے گئے تھے اور وہاں انھوں نے القاعدہ کے تحت اپنی جنگجو تنظیم قائم کر لی تھی اور اس یمنی القاعدہ کو اب امریکا دنیا میں سب سے سخت گیر جنگجو گروہ قرار دیتا ہے۔

واضح رہے کہ یمن میں 2011ء میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران القاعدہ اور اس سے وابستہ تنظیموں نے جنوبی صوبوں کے متعدد شہروں پر قبضہ کر لیا تھا لیکن بعد میں یمنی فوج نے امریکا کے خفیہ اداروں کی مدد سے القاعدہ کے جنگجوؤں کو ان شہروں سے نکال باہر کیا تھا۔ اس کے بعد وہ پہاڑی علاقوں کی جانب چلے گئے تھے اور وہ وہاں دارالحکومت صنعا اور دوسرے شہروں میں یمن کی سکیورٹی فورسز کو بم حملوں میں نشانہ بناتے رہے تھے۔

امریکا نے القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں یمنی سکیورٹی فورسز کی معاونت کے لیے اپنے ماہرین کو بھی بھیجا تھا اور اس کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے نے بغیر پائلٹ جاسوس طیاروں کے ذریعے یمن کے مختلف علاقوں میں القاعدہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور گذشتہ روز ہی یمن کے وسطی علاقے میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے حملے میں القاعدہ کے چار مشتبہ جنگجو ہلاک ہو گئے تھے۔

یمن کے وسطی علاقے میں گذشتہ تین روز میں امریکی سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کا یہ تیسرا حملہ تھا۔ مآرب میں ہفتے اور اتوار کو دو اور ڈرون حملوں میں چھے مشتبہ مزاحمت کار مارے گئے تھے۔ اتوار کو یمن کے جنوبی علاقے میں ایک مکان میں بم دھماکے کے نتیجے میں القاعدہ کے دس اور مشتبہ جنگجو ہلاک ہو گئے تھے۔