.

اپوزیشن کا بشار حکومت ختم کرنے کا مطالبہ تنازع کے حل میں رکاوٹ ہے

ماسکو، شام سے اپنے شہریوں کا اجتماعی انخلا نہیں چاہتا: لاروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کی اقتدار سے برخاستگی پر اپوزیشن کا اصرار قابل مذمت ہے کیونکہ یہ مطالبہ تنازع کے سیاسی حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر لاروف نے کہا کہ "اپوزیشن کی بشار الاسد حکومت خاتمے کی ہوس دراصل معاملے کے سیاسی حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس مطالبے پر مذاکرات نہیں ہو سکتے اور جب تک اس پر اصرار جاری رہے گا کچھ نیا حاصل نہیں ہو پائے گا۔ لڑائی ایسی ہی جاری رہے گی اور عوام مرتے رہیں گے۔

سرگئی لاروف نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مغربی ممالک بھی اپوزیشن کو بشار الاسد حکومت سے مذاکرات پر آمادگی میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض مغربی اور مشرقی وسطی کے ممالک نے حکومت مخالف گروپوں پر مشتمل اتحاد کے قیام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ سرگئی لاروف نے تیرہ جنوری کو ایک بیان میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کو 'ناممکن' قرار دیا تھا۔ روسی وزیر خارجہ نے بدھ کے روز نیوز کانفرنس کو بتایا کہ ان کا ملک شام میں اپنے شہریوں کے ایک ساتھ انخلاء کے بارے میں نہیں سوچ رہا کیونکہ وہاں پر موجودہ صورتحال اس کا تفاضہ نہیں کرتی۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب 77 روسی شہری لبنان کے راستے شام سے فرار ہو کر ماسکو پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شام کی اندرونی حالت بگڑنے کی صورت میں ہم نے اپنے پلان تیار کر رکھے ہیں، تاہم ان پر عمل درآمد کا ابھی کوئی امکان نہیں۔ بدھ کے روز العربیہ نیوز چینل نے بتایا کہ شام سے روسی شہریوں کا ایک وفد براستہ بیروت ماسکو روانہ ہوا ہے۔

نقل مکانی کرنے والے پہلے گروپ میں اٹھائیس افراد شامل ہیں۔ ان کے بعد انچاس دوسرے افراد کو روس بھیجا جائے گا۔ موجودہ مرحلے پر شام سے روس جانے والوں کی بڑی تعداد ایسے روسی خواتین کی ہے جو شامیوں سے بیاہی گئی ہیں اور انہیں بس کے ذریعے شام سے لبنان روانہ کیا گیا۔

درایں اثنا دو سینئر سفکارتکاروں نے شام سے روسی شہریوں کے انخلاء کی خاطر بیروت بھجوائے جانے والے دو ہوائی جہازوں کے فیصلے کو انتہائی 'لو پروفائل' سرگرمی قرار دیا ہے۔ تاہم امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے شام سے روسی شہریوں کی نقل مکانی کو ملک میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کا آئینہ قرار دیا۔

دمشق میں امریکی سفیر رابرٹ فورڈ نے 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روس، امریکا کے ذریعے شامی حکومت پر دباؤ بڑھا کر مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے شام نے کئی برسوں بعد بحر متوسبہ میں سب سے بڑی بحری مشقیں شروع کیں۔ مبصریں ان مشقوں کو شامی بحران کے تناظر میں دمشق کی طاقت کے اظہار سے تعبیر کر رہے ہیں۔