.

لبنان، شامی بحران سے الگ تھلگ رہنے کی کوشش کر رہا ہے میقاتی

دو سال سے بشار الاسد سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک خود کو شام میں جاری بحران سے الگ تھلگ کرنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی شامی صدر بشار الاسد سے گذشتہ دو سال سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

نجیب میقاتی العربیہ انگلش کے چیف ایڈیٹر فیصل جے عباس کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں گفتگو کر رہے تھے۔ انھوں نے شام کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں وہاں روزانہ تشدد کے واقعات میں بے گناہ لوگوں کی ہلاکتوں پر افسوس ہے اور لبنان اپنے وسائل کے مطابق شامی مہاجرین کی امداد کر رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت لبنان میں شامی مہاجرین کی تعداد دو لاکھ چھے ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس لحاظ سے مہاجرین کی صورت حال خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے اور لبنان اپنے طور پر ان مہاجرین کی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

العربیہ کے ساتھ انٹرویو میں نجیب میقاتی کا کہنا تھا کہ لبنان پر خطے میں جاری اتھل پتھل کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور خاص طور پر سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ گزرے سال کے دوران لبنان میں غیرملکی سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی حالانکہ ان کے بہ قول لبنان کو مشرق وسطیٰ کا سوئٹزر لینڈ قرار دیا جاتا ہے۔

انھوں نے لبنان کی اقتصادی صورت حال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے منفی مضمرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں بدامنی اور خود لبنان میں امن وامان کی صورت حال بہت نہ ہونے کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس وقت ان کے ملک پر قرضوں کا بوجھ چھپن ارب ڈالرز ہے۔ غیر ملکی قرضوں کے بوجھ کے علاوہ لبنان کو مختلف گوناگوں مسائل کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود نجیب میقاتی کا کہنا ہے کہ بنک کاری کا شعبہ ترقی کر رہا ہے۔ البتہ ملک کی مجموعی شرح نمو دو فی صد کے لگ بھگ ہے۔

لبنانی وزیر اعظم سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے لیے پہنچے ہیں۔ اس سے پہلے وہ ایک کاروباری شخصیت کے طور پر اس فورم میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ اب کے وہ اپنے ملک کو درپیش معاشی اور سیاسی چیلنجز کے حوالے سے اظہار خیال کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے مندوبین کو لبنان میں سرمایہ کاری کے شاندار مواقع کے بارے میں آگاہ کریں گے۔

(فیصل جے عباس، العربیہ انگلش کے ایڈیٹر انچیف ہیں)