.

ہلیری کلنٹن کا عرب بہار کے بعد عسکریت پسندی پر انتباہ

الجزائری جنگجوؤں نے لیبیا سے ہتھیار حاصل کیے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ الجزائر سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے لیبیا سے ہتھیار حاصل کیے تھے اور کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے۔انھوں نے عرب ممالک میں عرب بہار کے بعد عسکریت پسندی میں اضافے پر خبردار کیا ہے۔

ہلیری کلنٹن واشنگٹن میں امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے روبرو 11ستمبر2012ء کو لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کے واقعہ سے متعلق بیان دے رہی تھیں۔مشتعل مظاہرین کے حملے میں امریکی سفیر سمیت سفارتی عملے کے چارارکان ہلاک ہوگئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ''بن غازی کا واقعہ خلاء میں رونما نہیں ہوا تھا اور اس واقعے میں مرنے والوں کے لواحقین کے ساتھ انھوں نے خود فرداً فرداً اظہار تعزیت کیا تھا''۔انھوں نے کہا کہ عرب انقلابات نے خطے میں سکیورٹی فورسز کو تہس نہس کردیا ہے۔

تاہم انھوں نے کانگریس کے ارکان کو خبردار کیا کہ امریکی سفارت کاری کو نئی پیدا ہونے والی جغرافیائی سیاسی صورت حال کے تناظر میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا بلکہ امریکا کو تبدیل ہوتے ہوئے ماحول کے چیلنجز سے نمٹنا ہوگا۔

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ''ہم اس وقت پسپائی کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔جب امریکا کسی علاقے سے غیرحاضر ہوتا ہے اور خاص طور غیر مستحکم ماحول میں،تو اس کے سنگین مضمرات ہوتے ہیں۔انتہاپسندی جڑیں پکڑتی ہے،ہمارے مفادات کو نقصان پہنچتا ہے اور ادھر ملک میں ہماری سکیورٹی کے لیے خطرات پیدا ہوجاتے ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ نے اپنے بیان میں افریقی ملک مالی میں عدم استحکام پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ اس ملک میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں بن چکی ہیں اور اب وہ اپنے اثرونفوذ کو دوسرے ممالک تک پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کا ہم نے گذشتہ ہفتے ہی الجزائر میں مظاہرہ دیکھا ہے۔الجزائر کے گیس فیلڈ میں غیر ملکیوں کو یرغمال بنانے کے اس واقعہ میں تین امریکی بھی مارے گئے تھے۔

واضح رہے کہ ہلیری کلنٹن نے دسمبر میں بن غازی میں امریکی قونصل پر حملے سے متعلق بیان دینا تھا لیکن وہ سخت علیل ہوگئی تھیں اور اب انھوں نے ایسے وقت میں مذکورہ بیان دیا ہے جب سینیٹ میں ان کے جانشین سینیٹر جان کیری کے تقرر کی توثیق کا عمل بھی شروع ہونے والا ہے اور اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ سینیٹ کے ارکان کثرت رائے سے ان کے تقرر کی منظوری دے دیں گے۔اس کے بعد آیندہ چند روز ہی میں وہ وزیرخارجہ کا منصب سنبھال لیں گے۔