.

اسامہ تک رسائی میں پاکستان کے کردار کو سراہا نہیں گیا جان کیری

پاکستان کے لیے امریکی امداد میں کٹوتی ظالمانہ اقدام ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکی صدر براک اوباما کے نامزد وزیر خارجہ سینیٹر جان کیری نے کہا ہے کہ ایبٹ آباد میں القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن تک امریکا کو رسائی دینے میں پاکستان کے کردار کو کماحقہ سراہا نہیں گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے امریکی امداد میں کٹوتی ڈرامائی، ڈریکونین اور آہنی ہتھوڑے کے مترادف ہو گی۔

انھوں نے اپنے تقرر کی توثیق کے لیے امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں تیزی سے تبدیلی کا عمل رونما ہو گا اور امریکی فوجیوں کا 2014ء کی ڈیڈ لائن سے پہلے ہی انخلاء مکمل ہو جائے گا۔

نامزد سیکرٹری آف اسٹیٹ نے اپنے بیان میں افغانوں کو یقین دلایا کہ ''ان کے ملک میں امریکا کا انسداد دہشت گردی مشن 2014ء کے بعد بھی جاری رہے گا''۔ گویا امریکا جنگ زدہ ملک سے ہمیشہ کے لیے واپس نہیں جائے گا۔

سینیٹر جان کیری کو وزیر خارجہ کے عہدے پر اپنے تقرر کی توثیق کے لیے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے ارکان کے تند وتیز سوالوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کمیٹی کے نئے رکن ری پبلکن سینیٹر رینڈ پال نے ان سے یہ تجویز نما سوال کیا تھا کہ ''اگر پاکستان اسامہ بن لادن تک رسائی میں مدد دینے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا نہیں کرتا تو اس کے لیے امریکا کی مالی امداد روک لی جائے''۔

مسٹر جان کیری نے ان سینیٹر صاحب کو پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے اس ایشو پر ماضی میں اپنی بات چیت کے بارے میں بتایا اور کہا: ''انھوں نے پاکستانی قیادت کو باور کرایا تھا کہ بہت سے امریکیوں کے لیے یہ بات ناقابل قبول ہے کہ جس شخص نے اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں مدد دی تھی، وہ اس وقت پاکستانی جیل میں قید ہے''۔

انھوں نے سینیٹر پال کو مخاطب ہو کر کہا کہ ''انھیں اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے میں پاکستانی کیا کہہ رہے ہیں۔ پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر آفریدی یہ بات نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور وہ کس کو اپنا ہدف بنا رہا ہے۔ یہ تو اس نے اپنے لیے کام کیا تھا''۔

لیکن سینیٹر جان کیری نے خود بھی یہاں بات پوری نہیں کی اور یہ بات چھپانے کی کوشش کی کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پاکستان میں غدار سمجھا جاتا ہے اور اسے ایک عدالت نے غداری کے جرم ہی میں تیس سال سے زیادہ قید کی سزا سنائی تھی۔ وہ اسامہ بن لادن کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کرنے کے لیے سی آئی اے کی جعلی ویکسین مہم کا کردار تو بن گیا تھا لیکن اس کے بعد اس کی اس جعل سازی کی وجہ سے پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں طب کے شعبے میں خدمات انجام دینے والوں کے لیے مشکلات پیدا ہو چکی ہیں اور طالبان جنگجو انسداد پولیو مہم کے دوران قطرے پلانے والے کم سے کم بیس کارکنان کی جان لے چکے ہیں۔

امریکا کے نامزد وزیر خارجہ نے پاکستان پر قدغنیں لگانے یا اس کی مالی امداد میں کٹوتی کی مخالفت کی اور کہا کہ اس کے بجائے امریکا کو پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے چاہئیں کیونکہ ان تعلقات کے ساتھ امریکا کے بہت سے مفادات وابستہ ہیں۔ انھوں نے اس کی ایک مثال یہ پیش کی کہ افغانستان میں امریکی فوج کو کمک پہنچانے کے لیے پاکستان کی سڑکیں ہی استعمال کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ امریکا کو پاکستان سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مفید معلومات حاصل ہو رہی ہیں اور انھی معلومات کی بدولت 2011ء کے اوائل میں اسامہ بن لادن کا سراغ لگایا جا سکا تھا۔