.

انسانی حالت پہلے کی نسبت تیزی سے بہتر ہو رہی ہے بل گیٹس

بچوں کی شرح اموات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مائیکرو سوفٹ کے سابق بانی سربراہ بل گیٹس کا کہنا ہے کہ انسانی حالت پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے بہتر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر بچوں کی شرح اموات میں کمی کے لیے مثبت پیش رفت ہو رہی ہے۔

وہ ڈیووس میں منعقدہ تینتالیسویں سالانہ عالمی اقتصادی فورم میں گفتگو کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ انسانی حالت بہتر بنانے کے لیے مزید مثبت تبدیلیاں بھی رونما ہو رہی ہیں۔ انھوں نے اقوام متحدہ کے میلینیم اہداف کے حوالے سے اظہار خیال کیا اور خاص طور پر انھوں نے ہدف نمبر چار کا حوالہ دیا۔ اس کے تحت بچوں کی شرح اموات میں کمی کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ''1990ء میں دنیا بھر میں بچوں کی شرح اموات ایک کروڑ بیس لاکھ سالانہ تھی لیکن 2015ء تک یہ تعداد گھٹ کر 60 لاکھ سے بھی کم رہ جائے گی''۔

بل گیٹس نے جس پینل میں گفتگو کی، اس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور اردن کی ملکہ رانیا العبداللہ بھی شامل تھیں۔

برطانوی وزیر اعظم نے 2015ء کی ڈیڈلائن تک میلنیم اہداف کے حصول کے لیے باقی رہ جانے والے تین برسوں کا عاقلانہ انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے پینل کے دوسرے شرکاء کی اس بات کی تائید کی کہ میلنیم اہداف کی مدت میں مستقبل میں توسیع کے وقت ان کو پیچیدہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

ملکہ رانیا نے مردوں اور خواتین دونوں کو تعلیم کے مساوی مواقع دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ نوجوانوں کو اکیسویں صدی کی مہارتیں سیکھنی چاہئیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ''اچھے استاد پڑھاتے ہیں لیکن عظیم استاد اپنی صلاحیتیں دوسروں کو منتقل کرتے ہیں''۔



واضح رہے کہ تینتالیسویں سالانہ عالمی اقتصادی فورم میں ایک سو سے زیادہ ممالک سے تعلق رکھنے والے ڈھائی ہزار سے زیادہ مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ ان میں قریبا پچاس ممالک کے سربراہان ریاست یا حکومت اور ڈیڑھ ہزار سے زیادہ کاروباری شخصیات شامل ہیں۔فورم 27 جنوری تک جاری رہے گا۔