.

شیعہ ۔ سنی اختلافات کا باعث شیطان ہے ایرانی صدر

'فروعی، قومی اور قبائلی اختلاف مسلمانوں میں تفریق کا سبب ہیں'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ علاقے میں شیعہ اور سنی تفریق 'شیطان کی کارستانی' ہے۔ "شیعہ اور سنی بحث کے نتیجے میں مسلمانوں کی صفوں میں اختلافات کو ہوا مل رہی ہے۔

سعودی عرب سے شائع ہونے والے روزنامے 'الشرق الاوسط' کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اسلامی ملکوں کے عسکری وفود سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فروعی، قومی اور قبائلی اختلافات کا محرک 'شیطان' ہے۔

احمدی نژاد نے بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دوسروں پر کںڑول حاصل کرنے کے لئے معرض وجود میں نہیں آیا۔ تہران دوسروں کی دولت کو لالچی نظر سے نہیں دیکھ رہا۔

ادھر ایرانی وزیر دفاع بریگیڈئر احمد وحیدی نے ترکی کو دھمکی آمیز لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ کا اپنی سرزمین پر غیر ملکی افواج کو آنے دینا "غیر مفید" پیش رفت ہے۔ ہمیں کسی بھی حملے کی صورت میں اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا آتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شام اور ترکی کی سرحد پر پیڑیاٹ میزائلوں کی تنصیب ایران کے لئے دھمکی نہیں۔ کسی ملک کی سرزمین پر غیر ملکی فوج کی موجودگی کے خطے میں موجود ملکوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

بریگیڈئر وحیدی نے بتایا کہ جلد ہی مقامی طور پر تیار کئے جانے والے جدید لڑاکا طیارے کو نمائش کے لئے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جہاز ملک کی فضائی سرحدوں کی حفاظت پر مامور دوسرے لڑاکا طیاروں سے مختلف ہے۔