.

عراق مالکی مخالف مظاہروں میں خونریزی، فلوجہ میں 4 ہلاک

فوجیوں کی اہل سنت مظاہرین پر فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کے مغربی شہر فلوجہ میں فوج نے وزیر اعظم نوری المالکی کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد پر فائرنگ کر دی ہے جس کے نتیجے میں چار افراد اور متعدد زخمی ہو ہلاک ہو گئے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے نے بغداد سے 60 کلومیٹر مغرب میں واقع فلوجہ میں تعینات فوج کے ایک کپتان کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ مظاہرین شہر کے مشرقی علاقے کی جانب جانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن انھیں فوجیوں نے روک دیا۔ اس پر انھوں فوجیوں پر پانی کی بوتلیں پھینکنا شروع کر دیں۔ اس کے جواب میں فوجیوں نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی۔

فلوجہ کے ایک مرکزی اسپتال کے ڈاکٹر نے فائرنگ کے واقعے میں چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ فوجیوں نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی تھی یا انھوں نے ہوائی فائرنگ کی تھی۔



عراق کے سنی اکثریتی شہروں اور خاص طور پر مغربی صوبہ الانبارمیں شیعہ وزیراعظم نوری المالکی کے خلاف دسمبر سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد کا یہ بدترین واقعہ ہے اور اب مالکی حکومت کے خلاف اہل سنت کا احتجاج ایک بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

اہل سنت حکومت کی فرقہ وارانہ پالیسیوں اور ملک میں نافذ انسداد دہشت گردی قوانین کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں اور ان میں ترامیم کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ان کے بہ قول اہل سنت کو دبانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے اپنا احتجاج پرامن ریلیوں سے شروع کیا تھا اور اب وہ وزیر اعظم نوری المالکی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مالکی حکومت نے اہل سنت کو احتجاجی مظاہروں سے روکنے کے لیے حراستی مراکز اور جیلوں سے نو سو سے زیادہ قیدیوں کو رہا بھی کر دیا ہے اور ایک وزیر نے ان افراد کو الزامات اور مقدمات چلائے بغیر زیر حراست رکھنے پر معافی مانگی ہے لیکن اس کے باوجود اہل سنت کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا اور انھوں نے اپنا احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔

اہل سنت نے 20 دسمبر کو وزیر خزانہ رافع العیساوی کے نو محافظوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کیے تھے۔اب ان کی تحریک طول پکڑ چکی ہے۔وہ وزیر اعظم مالکی سے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور انسداد دہشت گردی کے متنازعہ قانون کے خاتمے کے علاوہ اہل سنت کے علاقوں میں بنیادی شہری سہولتیں مہیا کرنے کے مطالبات کر رہے ہیں۔