مالی میں سرکاری فوج پر انسانی حقوق پامال کرنے الزام

یورپی یونین کا اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read
Advertisement
مالی کے اخباروں میں شائع ہونے والی رپورٹوں اومو سال کے خوف میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ اس طرح کی خبروں کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی آواز اٹھانی شروع کر دی ہے۔ بماکو میں انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم ’ایف آئی ڈی ایچ‘ کے فلورینٹ گیئل بھی اس مہم میں پیش پیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس عینی شاہدین کے ایسے بیانات موجود ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ تیس افراد کو نسلی بنیادوں پر ہی قتل کیا گیا۔ ہم نے ان بیانات کی جانچ پڑتال کی ہے اور مزید معلومات اکھٹی کی ہیں۔ اب ہم یہ وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ان واقعات میں مالی کی فوج ملوث ہے‘‘۔

بتایا گیا ہے کہ مالی کے فوج نے اپنی پیش قدمی کے دوران ان افراد کو انتہا پسندوں سے مشتبہ روابط کی بناء پر قتل کیا یا پھر اس کی وجہ ان کی نسلی وابستگیاں بنیں۔ اس دوران ہیومن رائٹس واچ نے بھی اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مبصرین کے ذریعے ان واقعات کی تحقیقات کرائے۔

یورپی یونین نے بھی ان واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اومو سال کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اسلحہ اٹھانے اور چلانے کے قابل ہر شخص کو مالی کی فوج میں بھرتی نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول کسی بھی جنونی اور پیسہ کمانے کی خواہش رکھنے والے کی جگہ فوج میں نہیں ہونی چاہیے۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں