.

طائف جیل کے دولہا 27 ملین ریال خون بہا دے کر 18 برس بعد رہا

مرحوم والدین کی قبروں پر فاتحہ خوانی سے آزاد زندگی کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کے شہر طائف کی جیل میں اسیری کے دوست کی صاحبزادی سے پس زندان شادی رچا کر 'طائف جیل کے دولہا' کا خطاب حاصل کرنے والے عوض بن عید بن خلف الحویفی الحربی کو مقتول کے ورثاء نے ستائیس ملین سعودی ریال خود بہا لے کر معاف کر دیا ہے، جس کے بعد اٹھارہ برسوں سے جیل میں قصاص کی سزا کے منتظر اسیر کی رہائی پر گھر میں خوشی کے شادیانے بج اٹھے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عوض بن الحویفی قصاص کی کال کوٹھڑی سے رہائی کے فورا بعد اپنے والدین کی قبروں پر حاضری دی، جو اس کی مدت کے اسیری کے دوران اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق رہائی پانے والے عوض نے والدین کی قبروں پر حاضری کے بعد عمرہ اور پھر زیارت مدینہ منورہ کا قصد کر رکھا ہے۔

یاد رہے کہ عوض بن عید بن خلف الحویفی الحربی کا نام اس وقت میڈیا کی شہ سرخیوں کا موضوع بنا جب انہوں نے اپنے جیل کے ساتھی سے ان کی بیٹی سے نکاح کی خواہش ظاہر کی، جسے جگری دوست نے قبول کر لیا۔ چند ہی دنوں بعد جیل ہی میں ان کی شادی کی تقریب منعقد کی گئی۔ عوض بن عید بن خلف الحویفی الحربی کے جیل کے ساتھی جلد ہی نانا بن گئے۔ ان کے داماد نے بیٹی کا نام 'امل' رکھا جو معنوی طور پر ان کی اپنی زندگی اور اٹھارہ برس بعد بھی رہائی کی امید کا عکاس تھا۔

عوض بن عید بن خلف الحویفی الحربی نے بتایا کہ انہوں نے ابھی مستقبل کی زندگی کا خاکہ ترتیب نہیں دیا کیونکہ لمبی اسیری کے بعد وہ اپنے اردگرد معاشرے میں بہت زیادہ تبدیلیاں دیکھ رہا ہے اور خود کو ان سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش میں ہے۔