.

مکھیوں نے صدر اوباما سے ساتھی کے قتل کا بدلہ لے لیا

خطاب کے دوران ماتھے پر مکھی نے وار کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتور ملک امریکا کے صدر براک اوباما اور مکھی کے درمیان 'خونی لڑائی' پرانی بات ہے۔ براک اوباما سن 2009ء میں امریکی ٹی وی نیٹ ورک 'سی این بی سی' کے صحافی لجیون ہاورڈ کو واشنگٹن میں ایک انٹرویو کے دوران ستانے والی مکھی کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لئے تھے۔ اس وقت العربیہ ڈاٹ نیٹ نے واقعے پر تفصیلی رپورٹ قلمبند کی تھی۔ اس واقعے کو پانچوں براعظموں میں لاکھوں افراد نے اپنی ٹی وی سکرینز پر دیکھا۔

گزشتہ جمعرات امریکی مکھیوں نے اپنی ساتھی کے قتل کا بدلہ صدر براک اوباما سے اسی وائٹ ہاؤس میں لے لیا جہاں مکھیوں کی ایک ساتھی کو وائٹ ہاؤس کے مرد سیاہ نے دنیا کے سامنے انٹرویو دیتے ہوئے 'قتل' کیا۔ اس بار مکھیوں نے صدر براک اوباما کو ستانے کے لئے ایک انتہائی تیز طرار ساتھی بھجوائی۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق جس وقت صدر اوباما امریکی سٹاک ایکسچینج اور سیکیورٹی کمیشن کی سربراہ ماری جو وائٹ اور کنزیومر فائنینشل پروٹیکشن دفتر کے سربراہ رچرڈ کورڈاری کی تقرری کا اعلان کر رہے تھے تو مہم جو اور منتقم مزاج ساتھی مکھی ٹی وی سکرینز پر نمودار ہوئی۔ مکھی، ڈونز طیارے کی طرح اپنے ہدف اوباما کی جانب بڑھی لیکن براک حسین اوباما نے اسے ہاتھ سے دور بھگا دیا، تاہم اگلے ہی لمحے امریکی صدر کو چکما دیکر مکھی دوبارہ نمواردار ہوئی اور سیدھی براک اوباما کی چوڑی پیشانی سے جا ٹکرائی اور وہاں چند ثانیے چپکی رہی تاکہ ٹی وی کیمرے 'مکھیوں کے انتقام' کا نقطہ عروج دنیا تک پہنچا سکیں ۔۔۔۔ جب مکھی کو یقین ہو گیا کہ اب ان کا انتقام دنیا دیکھ چکی ہے تو وہ امریکی صدر کی پیشانی سے اڑ گئی۔