.

امریکی صدر کا شام میں مداخلت کے فوائد و نقصانات پر غور

فوجی مداخلت سے بحران حل ہوگا یا مزید بگڑ جائے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ وہ شام میں گذشتہ بائیس ماہ سے جاری بحران کے حل کے لیے فوجی مداخلت کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس سوال پر غور کررہے ہیں کہ آیا امریکا کی فوجی مداخلت سے شام میں جاری خونریزی کے خاتمے میں مدد ملے گی یا صورت حال اور بھی بد تر ہوجائے گی۔

امریکی صدر نے اپنے دوانٹرویوز میں شام میں جاری خونریزی کے حوالے سے اظہار خیال کیا ہے اور ناقدین کے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ امریکا نے ابھی تک خانہ جنگی کا شکار شام میں خونریزی رکوانے کے لیے کوئی اقدام کیوں نہیں کیا ہے؟

انھوں نے ''نیو ری پبلک میگزین'' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''شام جیسی صورت حال میں،میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کیا ہم اس صورت حال کو تبدیل کرسکتے ہیں اور کیا فوجی مداخلت کے کوئی اثرات مرتب ہوں گے؟''

اوباما کا کہنا تھا کہ ''انھیں پینٹاگان کی صلاحیت کے مطابق شام میں فوجی مداخلت کا جائزہ لینا ہے جبکہ فوج افغانستان میں ہے اور اس کا انخلاء ہونا ہے۔اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ فوجی مداخلت کے کیا کیا اثرات مرتب ہوں گے آیا اس سے تشدد بدترین شکل تو اختیار نہیں کر جائے گا یا کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال تو نہیں ہوگا''۔



براک اوباما نے کہا کہ ''یہ سوالات بہت سادہ نہیں ہیں اور کسی بھی فیصلے میں ایک توازن نظر آنا چاہیے۔ آپ کی صدارت کے اختتام پر آپ پیچھے مڑ کر دیکھیں اور یہ کہہ سکیں ہم نے جانیں بچائی ہیں''۔

سی بی ایس ٹیلی وژن کے پروگرام ''60منٹ'' میں گفتگو کرتے ہوئے براک اوباما نے کہا کہ ''ان کی انتظامیہ صرف یہ چاہتی ہے کہ امریکا کا اقدام ناکامی سے دوچار نہیں ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ''ہم دنیا میں ہر کہیں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو کنٹرول نہیں کرنے جارہے ہیں کیونکہ یہ تبدیلیاں بعض اوقات ساتھ ساتھ رونما ہو رہی ہوتی ہیں۔

شام میں فوجی مداخلت کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس سے پہلے لیبیا میں کرنل قذافی کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے جنگی طیارے بھیجے تھے لیکن شام کا معاملہ مختلف ہے۔واضح رہے کہ براک اوباما کو شام میں جاری خونریزی رکوانے میں ناکامی پراہل مغرب کی کڑی تنقید کا سامنا ہے۔