.

ایران کا بندر کو خلاء میں بھیج کر زندہ واپس لانے کا تجربہ

مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیابی کا دعوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران نے پیر کے روز اپنے خلائی کیپسول کے ذریعے ایک زندہ بندر کو خلاء میں بھجنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے بعد اسے بہ حفاظت خلائی تحقیقاتی مرکز پر اتار لیا گیا۔ یہ تجربہ ایران کا 2020ء تک خلاء میں انسان بردار خلائی مشن بھجوانے کا حصہ ہے۔

گذستہ سال 2011ء میں بھی ایک بندر کو خلاء میں بھیجا گیا تھا مگر حکام کی جانب سے اس کی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔

ایران کی وزارت دفاع کے خلائی ادارے کے حوالے سے 'العالم' ٹی وی نے بتایا کہ پائنیر کیپسول خلاء میں بھجا گیا تھا۔ اس کیپسول میں بندر بھی سوار تھا اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے بعد اسے بہ حفاظت خلائی تحقیقاتی مرکز پر اتار لیا گیا۔

کیپسول کو 120 کلومیٹر کی بلندی پر بھیجا گیا اور اس تجربہ کے دوران بندر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور اسے کیپسول سے زندہ نکالا گیا۔

ادھر مغربی ممالک نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ایران یہ تجربات اپنے بیلسٹک میزائل کو مضبوط بنانے کیلئے کر رہا ہے۔

ایرن نے اس کی تردید کی ہے کہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کے نیوکلیئر اور سائنٹیفک پروگرام کے مقاصد فوجی نوعیت کے نہیں ہیں۔ ایران پہلے بھی خلاء میں چوہا، کچھوا، اور کیٹرے روانہ کر چکا ہے۔