.

ایران کے ایک خفیہ ایٹمی پلانٹ میں زیر زمین دھماکا

فرود پلانٹ قم کے نزدیک واقع ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مغربی ذرائع ابلاغ جرمن اخبار 'دی والٹ' میں باخبر ماہرین کے حوالے شائع اس خبر کا بڑے پیمانے پر اعادہ کر رہے ہیں کہ ایران کے مذہبی مرکز 'قم' کے قریب 'فردو' ایٹمی پلانٹ میں زیر زمین دھماکا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دھماکے کی شدت سے فردو ایٹمی پلانٹ میں کام کرنے والے ایک سو نوے اہلکار تنصیات میں محصور ہو کر رہ گئے۔

یاد رہے کہ تہران باصرار کہہ چکا ہے کہ فردو ایٹمی پلانٹ نہیں بلکہ فوجی اڈا ہے جس کا دور دور تک نیوکلئر سرگرمی سے تعلق نہیں، اسی لئے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے اہلکاروں کو اس منصوبے کے معائنے کی اجازت نہیں ہے۔

'دی وولٹ' اخبار نے اپنی حالیہ اشاعت میں ایرانی ماہر رضا کھلیلی کے ایک امریکی ویب سائٹ کو دیئے بیان میں بتایا کہ انہیں فرود پلانٹ میں زیر زمین دھماکے سے متعلق معلومات ایرانی سیکیورٹی اور انٹلیجنس وزارت میں کام کرنے والے ایک پرانے دوست سے ملیں۔

کھلیلی نے دعوی کیا کہ دھماکا اسرائیلی پارلیمانی انتخاب سے ایک دن اور رپورٹ کی اشاعت سے چھے قبل ہوا جس کے بعد پلانٹ میں موجود دو سو چالیس افراد سے بیرونی دینا کا رابطہ مکمل طور پر کٹ گیا۔

ایران نے زیر زمین جوہری تنصیب میں دھماکے سے متعلق میڈیا رپورٹوں کی تردید کی ہے۔ پیر کے روز ایرانی سرکاری میڈیا پر سامنے آنے والی رپورٹوں میں ایران کی جوہری توانائی آرگنائزیشن کے نائب سربراہ نے اس دھماکے سے متعلق رپورٹوں کو ’مغربی پروپیگنڈا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مغربی ممالک کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات پر اثرانداز ہونے کی ایک سازش ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کے روز ایسی اطلاعات سامنے آئیں تھیں، جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایرانی شہر قم کے قریب واقع ایک زیرزمین جوہری تنصیب میں دھماکا ہوا ہے، تاہم ان خبروں کی تصدیق یا تردید نہیں ہو سکی تھی۔