.

یمن کار بم اور خودکش حملے میں 19 افراد ہلاک

3 مغربی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے سرکاری فوج کی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
یمن میں دو الگ بم حملوں میں انیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

صنعا سے العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق دارالحکومت سے ایک سومیل جنوب مشرق میں واقع شہر رضا میں کار بم دھماکے میں گیارہ افراد ہلاک اور سترہ زخمی ہو گئے ہیں۔

یمن کے جنوبی صوبے البائدہ میں ایک بمبار نے یمنی فوجیوں کے ایک چیک پوائنٹ پر بارود سے لدی کار کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس حملے میں آٹھ فوجی مارے گئے ہیں۔ مقامی حکام اور علاقے کے مکینوں کی اطلاع کے مطابق یہ واقعہ تین مغربی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات چیت کی ناکامی کے بعد پیش آیا ہے۔ فوج نے القاعدہ کے ایک ٹھکانے پر حملہ کیا تھا لیکن اس کے ردعمل میں القاعدہ کے ایک جنگجو نے فوجیوں پر حملہ کردیا۔

قبل ازیں ایک یمنی عہدے دار نے برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کو بتایا تھا کہ قبائلیوں نے گذشتہ ماہ دارالحکومت صنعا سے ایک فنش جوڑے اور ایک آسٹریائی مرد کو اغوا کر لیا تھا۔ بعد میں ان تینوں کو القاعدہ کے ارکان کے ہاں فروخت کر دیا تھا۔یہ تینوں مغربی باشندے صنعا میں عربی کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

القاعدہ کے جنگجوؤں نے ان یرغمالیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد سوموار کو علی الصباح یمنی فوج نے صوبے البائدہ میں واقع القاعدہ کے مضبوط گڑھ المناسح میں دھاوا بول دیا تھا۔علاقے کے مکینوں نے علی الصباح متعدد ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں مناسح کی جانب آتی ہوئی دیکھی تھیں اور فوجیوں نے آتے ہی القاعدہ کے ٹھکانے کی جانب گولہ باری شروع کردی تھی۔

اس کارروائی کے ردعمل میں القاعدہ کے ایک خودکش بمبار نے المناسح کے نزدیک واقع قصبے البیضاء میں فوج کے چیک پوائنٹ پر اپنی بارود سے بھری گاڑی دھماکے سے اڑا دی۔اس حملے میں آٹھ فوجی ہلاک ہو گئے۔

اس حملے سے قبل البیضاء کے نواح ہی میں جنگجوؤں کے ایک اور حملے میں تین فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ان دونوں حملوں میں کم سے کم بیس فوجی زخمی ہوئے ہیں۔تاہم فوری طور پر جنگجوؤں کی ہلاکتوں کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔