.

سعودی مذہبی پولیس کے اختیارات میں کمی، مزید قدغنیں عاید

تفتیش اور پراسیکیوشن کا اختیارعام پولیس کے حوالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی مذہبی پولیس کے اختیارات میں مزید کمی کردی گئی ہے اور اس سے تفتیش اور استغاثے کا اختیارواپس لر کرعام پولیس کو دے دیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کمیشن المعروف مذہبی پولیس کے سربراہ شیخ عبداللطیف عبدالعزیز آل شیخ نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ نئے نظم کے تحت مشتبہ افراد سے تفتیش اور ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے عدالت میں فرد جرم عاید کرنے تک کے عمل کا اب عام پولیس اور پبلک پراسیکیوشن کا محکمہ ذمے دار ہوں گے۔

انھوں نے سعودی کابینہ میں منظور کیے گئے نئے قانون کے حوالے سے بتایا کہ ''مذہبی پولیس کو دیدہ دلیری سے جرائم کرنے والوں کو گرفتار کرنے کا اختیار بدستور حاصل ہے۔ان میں خواتین کو ہراساں کرنے ،شراب نوشی ،منشیات کے استعمال اور جادوٹونا جیسے جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری کا اختیار شامل ہے''۔

تاہم ان جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف کیسز پولیس کو بھیجے جائیں گے اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔اب مذہبی پولیس کو ان افراد کے خلاف الزامات کے تعین کا حق حاصل نہیں ہوگا۔

شیخ عبداللطیف نے بتایا کہ مذہبی پولیس خواتین کو ڈرائیونگ سے روکنے ،سرعام تفریح (انٹرٹینمنٹ) اور تمام کاروباری مراکز کو پانچوں وقت کی نمازوں کے دوران بند کرانے کے لیے اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھے گی۔

اعتدال پسند سمجھے جانے والے شیخ عبداللطیف آل شیخ کو گذشتہ سال محکمہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔انھوں نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد رضاکاروں کے محکمے میں کام کرنے پر پابندی عاید کردی تھی اور محکمے کے اہلکاروں کو شہریوں کو ہراساں نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

گذشتہ سال جون میں انھوں نے ناخن پالش لگاکر مارکیٹ میں آنے والی ایک عورت کو روکنے والے اہلکار کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی تھی۔اس اہلکار نے ایک شاپنگ مال میں موجود اس خاتون کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا تھا لیکن اس نے یہ حکم ماننے سے انکار کردیا تھا اور پولیس اہلکار کے ساتھ اپنی توتکار کی ویڈیو بنا کر یوٹیوب پر پوسٹ کردی تھی۔