.

انقرہ: امریکی سفارت خانے کے باہرخودکش بم دھماکا، دو افراد ہلاک

بائیں بازو کے انتہا پسند گروپ پر حملے میں ملوث ہونے کا شُبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں امریکی سفارت خانے کے باہر خودکش بم دھماکے میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

ترکی کے این ٹی وی نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کی دوپہر انقرہ کے وسطی علاقے چانکیہ میں واقع امریکی سفارت خانے کے ویزا سیکشن کے باہر حملہ آور بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ واقعے میں حملہ اور سفارت خانے کا ایک محافظ مارا گیا ہے اور متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

انقرہ کے اس علاقے میں دوسرے ممالک کے سفارت خانے اور اداروں کے دفاتر بھی قائم ہیں۔امریکی سفارت خانے کے سامنے سے گزرنے والی سڑک کو بلاک لگا کر بند کیا گیا ہے اور وہاں روزانہ لوگوں کا رش ہوتا ہے۔

ایک عینی شاہد کامیار برنوس نامی ٹریول ایجنٹ نے بتایا کہ ''بم پھٹنے سے زوردار دھماکا ہوا تھا اور ا س وقت میں اپنی دکان میں بیٹھا ہوا تھا''۔اس کی دکان وہاں سے ایک سو میٹر دور واقع تھی۔ بم دھماکے کے فوری بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔

ترک وزیر داخلہ معمر گلر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خودکش بمبار ترک شہری تھا۔ بم حملے میں ایک خاتون شدید زخمی ہے اور سفارت خانے کے دو محافظ اسپتال کے آؤٹ ڈور وارڈ میں زیر علاج ہیں۔

ترک پولیس کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار کی عمر تیس سال کے لگ بھگ تھی اور اس کا بائیں بازو کے جنگجو گروپ انقلابی پیپلز لبریشن پارٹی فرنٹ سے تعلق تھا۔اس نے کچھ عرصہ جیل میں بھی گزارا تھا۔

امریکا کی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے واشنگٹن میں ایک بیان میں انقرہ میں امریکی سفارت خانے کے باہر دہشت گردی کے حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ امریکی حکام ترک تفتیش کاروں کے ساتھ مل کر واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ترکی میں ماضی میں سخت گیر اسلامی جنگجو تنظیمیں، بائیں اور دائیں بازو کے انتہا پسند گروپ اور کرد علاحدگی پسند ماضی میں مختلف شہروں میں بم حملے کرتے رہے ہیں۔ جولائی 2008ء میں استنبول میں امریکی قونصل خانے کے باہر حملے میں تین مسلح افراد اور تین ترک پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے پہلے نومبر 2003ء میں استنبول میں برطانوی قونصل خانے سمیت چار مقامات پر چار خودکش بم حملے کیے گئے تھے۔ ان میں تریسٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ القاعدہ نے ان بم حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔