ایران نے ریڈار سے بچنے کی صلاحیت کا حامل جہاز بنا لیا

بندر خلا میں بھجوانے کے دعوے کے بعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے ایک نیا ملکی ساختہ جہاز بنایا ہے جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ ریڈار سے بچ سکتا ہے۔ ایک نشست والے اس جہاز کو قاہر ایف 313 کا نام دیا گیا ہے اور یہ 2007 میں ایرانی فوج کی جانب سے آزرخش نامی جنگی جہاز کی تیاری کے بعد سے تازہ ترین اختراع ہے۔


صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ اس نے دنیا کے جدید ترین جہاز کی ’تمام مثبت خصوصیات‘ حاصل کر لی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی قومی فوجی طاقت بچاؤ اور دفاعی مقاصد کے لیے ہے۔

تہران کے ایک ہوائی اڈے سے سرکاری ٹیلی ویژن پر تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے محمود احمدی نژاد نے کہا وہ اس جہاز کو ’دنیا کے جدید ترین جہازوں میں سے ایک‘ سمجھتے ہیں۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر جہاز کی تصویریں دکھائی گئی ہیں، جن میں ایک خاکستری رنگ کا جیٹ دکھایا گیا ہے، جس کے بارے میں ایران کی وزیرِ دفاع احمد وحیدی نے کہا کہ اسے ’جدید میٹریل‘ سے بنایا گیا ہے اور اسے ریڈار سے شناخت کرنا بہت مشکل ہے۔

یہ تقریب انقلابِ ایران کی 34 ویں سالگرہ کے موقعے پر منعقد کی گئی، جس میں امریکی پشت پناہی سے قائم شاہ کی حکومت کو گرا کر اسلامی حکومت قائم کی گئی تھی۔

ایران نے رواں ہفتے ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پیش گام نامی راکٹ کی مدد سے خلا میں کامیابی سے بندر بھیجنے کا تجربہ کیا ہے اور یہ راکٹ 120 کلومیٹر بلند مدار تک پہنچا تھا۔

مغربی ممالک نے اس کے جواب میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کا خلائی پروگرام طویل مار میزائل بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جنہیں ممکنہ طور پر جوہری اسلحہ لے جانے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ ایران اس کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں