صدراحمدی نژاد ایران کے پہلے خلانورد بننے کو تیار

''سب سے پہلے مجھے خلاء میں بھیجا جائے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے پہلے خلانورد بننے اور خلائی پروگرام کے اپنی جان قربان کو تیار ہیں۔

صدراحمدی نژاد سوموار کو تہران میں دو ایرانی ساختہ سیٹلائٹس (خلائی سیاروں) کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''ہمارے نوجوان آیندہ چار، پانچ سال میں آدمی کو خلاء میں بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ واقعہ ہو کررہے گا''۔

ایسنا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صدر احمدی نژاد نے کہا کہ ''میں خلا میں جانے والا پہلا ایرانی بننے کو تیار ہوں اور ہمارے سائنسدان مجھے اس مقصد کے لیے قربان کرسکتے ہیں ۔میں یہ بات بھی جانتا ہوں کہ اس مشن کے لیے بہت سے اور بھی امیدوار ہوں گے''۔

ایرانی صدر نے اپنے ملک پر عاید کردہ بین الاقوامی پابندیوں کے نتیجے میں خلائی پروگرام کو درپیش مالی مشکلات کے پیش نظر خود کو نیلامی کے لیے بھی پیش کردیا اور کہا کہ وہ اپنی جان ملک کے خلائی پروگرام کے لیے عطیہ کرنے کو تیار ہیں۔

واضح رہے کہ ایران اپنے خلائی تحقیق کے پروگرام کے تحت 2020ء تک پہلا انسان مدار میں بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس نے چند ماہ قبل ہی ایک بندر کو کامیابی سے خلاء میں بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

ایرانی صدر نے جن دو چھوٹے خلائی سیاروں کا افتتاح کیا ہے۔ان کے نام ناہید اور زہرہ ہیں۔ناہید شمسی توانائی سے آراستہ ایک مشاہداتی سیٹلائیٹ ہے اور یہ 250 سے 370 کلومیٹر تک بلندی میں مدار میں رہے گا۔ایران اس سے پہلے 2009ء کے بعد تین اور چھوٹے سیارے بھی خلاء میں بھیج چکا ہے۔

زہرہ ایک جامد مواصلاتی سیارہ ہے اور یہ 36ہزار کلومیٹر کی بلندی تک رہے گا۔واضح رہے کہ ایران نے اس سے پہلے اتنی زیادہ بلندی تک کوئی خلائی سیارہ نہیں بھیجاہے۔

خلائی راکٹوں میں استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی کو بیلسٹک میزائلوں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسی وجہ سے امریکا اوردیگر مغربی اقوام ایران کے خلائی پروگرام کے بارے میں اپنے شکوک وشبہات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔انھیں خدشہ ہے کہ ایران اس ٹیکنالوجی کو بروئے کارلا کر جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل بیلسٹک میزائل بھی تیار کرسکتا ہے۔

مغربی ممالک اس شُبے کا بھی اظہار کرتے رہتے ہیں کہ ایران خفیہ طور پر بیلسٹک میزائل تیار کررہا ہے جبکہ ایران اس دعوے کی تردید کرتا چلا آرہا ہے تہران اپنے خلائی پروگرام کے متنازعہ جوہری پروگرام سے کسی تعلق کی بھی تردید کرتا ہے۔

یادرہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 2007ء سے ایران پر مختلف النوع پابندیاں عاید کررکھی ہیں جن کے تحت دوسرے ممالک اس کو جوہری اورخلائی ٹیکنالوجی برآمد نہیں کرسکتے ہیں۔امریکا اور یورپی یونین نے ایران پر الگ سے سخت اقتصادی پابندیاں عاید کررکھی ہیں جن کے اثرات سے اس کی معیشت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں