شامی اپوزیشن رہنما کا شامی حکام سے مشروط مذاکرات کا عندیہ

امریکا نے مذاکرات کی حمایت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی اپوزیشن رہنما معاذ الخطیب نے شامی صدر بشار الاسد سے کہا ہے کہ وہ اقتدار سے علاحدگی کے طریقہ کار کو طے کرنے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں اور ملک کو دو سال سے جاری شدید خانہ جنگی سے نجات دلائیں۔

الخطیب نے مذاکرات کو یقینی بنانے کے لیےکہا کہ شامی حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہو جائے تو وہ نائب صدر فاروق الشارع سے بھی گفتگو کے لیے تیار ہیں۔ الخطیب کی اس تجویز پر ان کے اپنے ہی اپوزیشن اتحاد میں شامل بعض رہنماؤں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ الشرق الاوسط اخبار نے دعوی کیا ہے کہ معاذ الخطیب کے حالیہ بیان کے بعد سامی اپوزیشن اتحاد جلد اس کے مضمرات کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس منعقد کرنے والی ہے

شامی نائب صدر نے بشار الاسد کے ان تمام اقدمات سے اپنے آپ کو دور رکھا ہوا ہے جنہوں نے ملک کوگذشتہ بائیس ماہ سے خانہ جنگی سے دو چار کر رکھا ہے۔

روس، امریکا اور ایران کے اعلٰی حکام سے ملاقات کے بعد العربیہ ٹی وی سے بات کرتے ہوئےشامی اپوزیشن رہنما کا کہنا تھا کہ شام کے مسائل کا حل کسی اور کے پاس نہیں ہے، یہ حکومت ہی کو سوچنا ہےکہ اس نے صورت حال کو کس طرف لے کر جانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’شامی حکومت کو چاہیے کہ وہ مزید نقصان کروائے بغیر اقتدار کی پر امن منتقلی کے لیے مذاکرات کی دعوت کو قبول کرلے۔‘‘

اعتدال پسند اپوزیشن رہنما نے گزشتہ ہفتے بھی اسد حکومت کومشروط مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی حکومت اپوزیشن رہنماؤں پر عائد پابندیوں کو فوری ختم کرے۔ اس موقع پر بھی الخطیب کو بعض اپوزیشن رہنماؤں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جن کا موقف ہے کہ اسد کی اقتدار سے علاحدگی کے بغیر کسی بھی قسم کے مذاکرت نہیں ہوسکتے۔

الخطیب کا کہنا تھا حالیہ تنازع کی وجہ سے ساٹھ ہزار سےزائد افراد مارے جا چکے ہیں اور قریب سات لاکھ افراد ملک سے ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ لاکھوں افراد نہ صرف مجبوری اور لاچاری کی زندگی بسر کر رہے ہیں، بلکہ انہیں فاقوں کا سامنا ہے۔ معاذ الخطیب کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا مقصد شام میں جاری خونریزی کو روکنے میں حکومت کی مدد کرنا ہے۔

شامی مہاجرین کے لیےکویت میں منعقدہ حالیہ ڈونرز کانفرنس میں مختلف ممالک نے 1.5 ملین ڈالرز امداد دینے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی لخضر براہیمی نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا تھا کہ شام کا تنازع ہولناکی کی اس سطح تک پہنچ گیا ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ صدر اسد کا خاندان گذشتہ بیالیس سال سے شام پر حکومت کر رہا ہے۔ مارچ 2011ء میں بشار الاسد کے اقتدار کے خلاف شروع ہونے والے پرامن مظاہرے آہستہ آہستہ خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں