.

ٹویٹر پر امیر کویت کی ''توہین'' کے مرتکب کو 10 سال قید کی سزا برقرار

سپریم کورٹ نے ماتحت عدالت کے فیصلے کی توثیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی عدالت عظمیٰ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر پر امیر شیخ صباح الاحمد الصباح کی توہین کے الزام میں حکومت مخالف کارکن کو سنائی گئی دس سال قید کی سزا کی توثیق کر دی ہے۔

ایک کویتی اخبار الجریدہ کی رپورٹ کے مطابق عدالت عظمیٰ نے مجرم قرار دیے گئے اورینس الرشیدی کے خلاف ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔اس کو کویت کے بارے میں غلط خبریں پھیلانے پر بھی قصور وار قرار دیا گیا تھا۔اب اس کے خلاف عدالت کا فیصلہ حتمی ہے اور اس کو کسی اور عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا ہے۔

الرشیدی پر سماجی روابط کی ویب سائٹس ٹویٹر اور یو ٹیوب پر امیر کویت کی توہین کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا کیونکہ کویت کے آئین کے تحت امیر پر تنقید نہیں کی جاسکتی اور یہ ایک فوجداری جرم ہے۔

کویت کی ایک ماتحت عدالت نے اکتوبر 2011ء میں الرشیدی کو قصوروار قرار دے کر دس سال قید کی سزا سنائی تھی اور گذشتہ سال مئی میں ایک اپیل عدالت نے اس سزا کو برقرار رکھا تھا اور ملزم کی اپیل مسترد کردی تھی۔

واضح رہے کی کویت میں حکام نے گذشتہ چند ماہ سے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے حکومت مخالف کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کررکھا ہے اور اس دوران متعدد افراد کو امیر کویت پر تنقید کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے۔ان میں سے بعض کو عدالتوں سے سزائیں سنائی جاچکی ہیں جبکہ باقی اپنے خلاف مقدمات کی سماعت کے منتظر ہیں۔