.

قاہرہ: فلسطینی صدر نے سمٹ کی مبارک حسنی مبارک کو پیش کر دی

صدر مرسی ابو مازن کی بدحواسی پر ششدر رہ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معزول صدر حسنی مبارک اگرچہ ایک زبردست عوامی انقلاب کے نتیجے میں اقتدار سے بیدخلی کے بعد زندگی کے بقیہ دن بستر مرگ اور عدالتوں کے چکر لگا کر پورے کر رہے ہیں تاہم چند عرب حکمرانوں اور بالخصوص فلسطینی صدر محمود عباس کے دل سے ان کی یاد بھلائے نہیں بھول رہی ہے۔ اس لئے انہوں نے قاہرہ میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم "او آئی سی' کے سربراہی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ایک سیشن کے صدر نشین موجودہ مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو سمٹ کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کرنے کے بجائے حسنی مبارک کو مبارک باد دیتے رہے۔
بجائے

فلسطینی رہنما ابو مازن کو جب اپنی غلطی کا احساس ہوا تو چند ثانیے توقف کے بعد دوبارہ کچھ یوں گویا ہوئے: "مجھے صدر محمد مرسی کو سربراہی اجلاس کی میزبانی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے مسرت ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" دلچسپ بات یہ ہے کہ محمود عباس کی [غیر ارادی] غلطی پر صدر نشین محمد مرسی نے انتہائی کمپوز انداز میں اجلاس کی صدارت جاری رکھی، تاہم متعدد حاضرین دلچسپ صورتحال پر کافی محظوظ ہوئے۔ بدھ کے روز مصری دارلحکومت قاہرہ میں شروع ہونے والے اجلاس میں ستاون ملکوں نے شرکت کی۔

صدر محمد مرسی کی جگہ حسنی مبارک کا نام لیا جانے کا یہ پہلا اور شاید آخری موقع نہیں تھا کیونکہ متعدد مصری اہلکار بھی مختلف تقاریب میں موجودہ صدر کی جگہ معزول صدر حسنی مبارک کا نام لے جاتے ہیں۔ سن 2011ء کے انقلاب کے بعد خود اخوان المسلمون کے شعلہ بیان وزیر اطلاعات صلاح عبدالمقصود ایک ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ "وہ صدر حسنی مبارک کی ہدایت کی روشنی میں یہ بات کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!"

اخوان المسلمون کا سیاسی چہرا 'فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی' کے ترجمان کے اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر میں صدر محمد مرسی کی جگہ حسنی مبارک کا نام چھپ چکا ہے۔ نیز ایک ٹی وی کی نیوز اینکر نے ایک مظاہرے میں صدر مرسی کے حق میں لگنے والے نعروں کا ذکر کرتے ہوئے آن ائر کہا کہ "جلسے کے شرکاء صدر حسنی کے حق میں فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔۔!" یاد رہے کہ حسنی مبارک کی بیدخلی کے بعد صدر محمد مرسی گزشتہ برس جون میں مصر کے سربراہ بنے تھے۔